ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 566 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 566

للیم تنگ 566 یہ کیفیت عموماً عارضی ہوتی ہے لیکن غیر محتاط ڈائیٹنگ کرنے کے جو مستقل اثرات اعصاب پر پڑ جاتے ہیں وہ ٹھیک نہیں ہوتے اور ساری عمر کے لئے مصیبت بن جاتے ہیں۔اس لئے شدید ڈائیٹنگ سے پر ہیز لازم ہے۔متناسب غذا اور مناسب ورزش اچھی صحت اور ہلکے جسم کا بہترین نسخہ ہیں ورنہ فاقوں سے وزن گرانے کی کوشش سے مریض للیم ٹنگ کے مریض کی طرح ضدی ہو جاتا ہے اور بے دلیل با تیں کرنے لگتا ہے۔علیکم تنگ میں ہائیوس اور پتھر س کی طرح جنسی اعضاء میں ہیجان ملتا ہے لیکن ایک واضح فرق یہ ہے کہ علیم نگ میں ان دونوں دواؤں کے مزاج کے بر عکس زور دار نفسانی خواہش ایک مستقل بیماری بن جاتی ہے جس پر قابو پانامشکل ہوتا ہے۔گرمی اور سردی کے احساس کے لحاظ سے اس کی علامت پلسٹیلا سے ملتی ہے۔گرمی سردرد تکلیف دیتی ہے اور ہاتھ پاؤں بھی جلتے ہیں۔عموماً ماتھے پر رہتا ہے، روشنی نا قابل برداشت ہوتی ہے اور نظر کمزور ہو جاتی ہے۔وقتی اندھا پن بھی پیدا ہو جاتا ہے۔بعض دفعہ کمرہ بہت اندھیرا لگتا ہے۔آنکھوں کے سامنے سائے سے ناچنے لگتے ہیں۔آنکھوں میں سوزش ہو جاتی ہے جو مزمن ہو جائے تو آنکھ ہمیشہ سوجی رہتی ہے۔لعلیم ٹنگ میں ایک علامت مرک کار سے ملتی ہے مثلاً پیچش ایسی کہ فارغ ہونے کے بعد بھی بے چینی اور درد جاری رہیں۔مرک کار میں جب تکلیف ہو تو یہ احساس رہتا ہے کہ فارغ ہونے کے باوجود کچھ اجابت باقی رہ گئی ہے۔لیکن لیم نگ میں اجابت کے بعد بھی ہر وقت یہ احساس رہتا ہے کہ اسے حاجت کے لئے ٹائلٹ جانے کی ضرورت ہے۔مرک کار کی طرح اس میں بھی پیشاب کرنے کے باوجود جلن محسوس ہوتی ہے۔اگر کسی مریض کو یہ خیال ہو کہ میں پاگل ہو جاؤں گا یا مجھے کچھ ہو جائے گا ، دماغ میں یہ خیال ایک بار راہ پالے تو نکلتا نہیں۔اگر وہ سمجھنے لگے کہ میں فلاں چیز ہوں تو یہ وہم بھی ہٹنے کا نام نہیں لیتا۔یہ لینم نگ کی خاص علامت ہے۔اس کے ساتھ گہری اداسی اور ڈپریشن (Depression) کے دورے بھی ہوتے ہیں۔میں نے کئی ایسے