ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 522 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 522

کر نیوزوٹ 522 لیکن کیمومیلا کا مزاج ہی غصہ والا ہوتا ہے جبکہ کر ئوزوٹ میں یہ کیفیت عارضی ہوتی ہے۔بیماری کی شدت سے مریض چڑ جاتا ہے جس کی وجہ سے طبیعت میں کیمومیلا کی علامات پیدا ہو جاتی ہیں۔کیمومیلا کا مریض تندرست ہو یا بیمار، ہر حال میں غصے والا ہی رہے گا اور اس کے مزاج میں بدخلقی اس کی سرشت بن جاتی ہے۔کر ئوزوٹ میں خون کے اخراج کی وجہ سے ماؤف حصہ چھل جاتا ہے اور جلن ہوتی ہے۔اگر اس کے اخراجات سیاہی مائل ہوں تو ان میں بد بو بھی پائی جاتی ہے۔کر ئیوز وٹ رات کو بچوں کے پیشاب نکل جانے کی بہترین دوا ہے۔اس میں یکا یک پیشاب کی حاجت اتنی شدید ہوتی ہے کہ پیشاب کرنے کی جگہ تک بھی نہیں پہنچ پاتے۔اگر اس دوا کو کچھ عرصہ استعمال کیا جائے تو رفتہ رفتہ پیشاب کی حاجت کی تیزی میں کمی آجاتی ہے اور پیشاب کو روکنے کی طاقت بڑھ جاتی ہے۔معدے میں بھی تیزابیت، قے اور متلی کا رجحان ملتا ہے۔قے کا مواد گلے میں جلن اور خراش پیدا کرتا ہے۔منہ کا ذائقہ خصوصاً پانی پینے کے بعد کڑوا معلوم ہوتا ہے۔معدے میں درد جسے کچھ کھانے سے آرام ہو مگر کھانے کے بعد قے ہو جاتی ہو۔گرم غذا سے مریض بہتر محسوس کرتا ہے جبکہ ٹھنڈی غذا سے بیماریوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔معدے میں کھچاؤ اور ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے۔کینسر کے رجحان والے مریض میں بھی کر ئوزوٹ مفید ہے خصوصاً معدے کے کینسر کے آغاز میں کو نم کے ساتھ ملا کر دی جائے تو فائدہ پہنچاتی ہے۔بیماری کی پوری علامتیں ظاہر ہونے سے پہلے ہی اگر کر ئوزوٹ کی علامتیں نظر آئیں تو فوراً شروع کروا دینی چاہئے ورنہ اگر یہ کینسر ایک دفعہ شروع ہو جائے تو اسے سنبھالنانا ممکن ہوتا ہے۔مناسب علاج مریض کو صرف آرام تو پہنچا سکتا ہے مکمل شفا نہیں بخشا۔زندگی کو سہولت سے اپنی آخری مقررہ اجل“ تک بڑھانے کی ایک کوشش ہوتی ہے۔یہ محاورہ میں نے عمداً استعمال کیا ہے کیونکہ عموماً یہ کہا جاتا ہے کہ زندگی کے کچھ سال بڑھائے جاسکتے ہیں۔سال تو نہیں بڑھ سکتے لیکن اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ انتہائی مدت سے زندگی کے جو سال کم ہو رہے ہیں ان کی کمی کو دور کیا جا سکتا ہے۔بیماری اور شفا کا یہی فلسفہ ہے۔گویا صحیح