ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 507 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 507

کالی فاس 507 غلبہ سے اعصاب اتنے کمزور ہو جائیں کہ رد عمل نہ دکھا سکیں تو خواہ کتنی ہی جراثیم کش ادویات استعمال کی جائیں وہ فائدہ نہیں پہنچا ئیں گی کیونکہ جسم رو مل چھوڑ چکا ہوتا ہے۔گینگرین میں بھی جسم کا یہ طبعی رد عمل ختم ہو جاتا ہے لیکن کالی فاس اس کے رد عمل کو جگا دیتی ہے اور اعصاب کو مقابلہ کی طاقت بخشتی ہے۔جس کے نتیجہ میں جسم گینگرین کا مقابلہ شروع کر دیتا ہے۔اعصاب مضبوط ہو جائیں تو سلیشیا بھی خوب اثر دکھاتی ہے۔غدودوں کی سوزش میں بھی کالی فاس بہت مفید ہے۔بسا اوقات گردن کی دونوں اطراف میں غدود پھول جاتے ہیں، یہ تپ دق یا کینسر کی وجہ سے بھی ہوسکتا ہے۔ایسے مریضوں کو براہ راست سلیشیا دیں تو بعض اوقات خطرناک نتائج نکلتے ہیں لیکن حسب حالات مریض کو سلیشیا دیتے وقت کئی دوسری دوائیں پہلے یا ساتھ ملا کر دینی پڑتی ہیں۔انہی دواؤں میں سے ایک کالی فاس ہے جس سے سلیشیا کا رد عمل متوازن ہو جاتا ہے۔میرے نزدیک یہ ترکیب اچھا اثر دکھانے والی ہے۔یہ بھی ممکن ہے کہ سلیشیا دینے سے پہلے کالی فاس دے کر مریض کو صحیح ردعمل کے لئے تیار کر لیا جائے۔ایسی صورت میں بہتر ہے کہ کالی فاس کی ایک ہزار طاقت کی خوراک دے کر چند دن انتظار کر لیا جائے۔بعض اوقات اسی سے حیرت انگیز نتائج سامنے آتے ہیں اور ایک ہی خوراک غدودوں کو چھوٹا کرنے لگتی ہے۔ایسی صورت میں سلیشیا دینے کی بھی ضرورت نہیں رہتی۔آٹھ دس دن کے بعد ایک خوراک اور دی جاسکتی ہے۔جب تک غدود چھوٹے ہوتے جارہے ہوں کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔کالی فاس صرف پیرونی طور پر نظر آنے والے غدودوں میں ہی نہیں بلکہ اندرونی اعضاء اور رحم کے غدودوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔اگر یہ شک ہو کہ یہ گومڑ کینسر کی شکل اختیار کر رہے ہیں تو کالی فاس کو لا ز ما یا درکھنا چاہئے کہ یہ کینسر کے زخموں کو مندمل کرنے میں بھی مددگار ہوتی ہے۔کالی فاس کا ایگیر میکس (Agaricus) سے بھی کسی حد تک مزاج ملتا ہے۔بعض اوقات چہرے کے پٹھے پھڑکنے لگتے ہیں جو کالی فاس، ایکگیر یکس یا اس سے ملتی جلتی دواؤں کا