ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 376 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 376

یو فریزیا 376 دباؤ کا احساس ہوتا ہے جیسے کسی نے پٹی سے کس کر باندھ دیا ہو۔آنکھ کے کورنیا کے پردے میں زخم اور پھنسیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔چونکہ آنکھ سے جلن پیدا کرنے والا تیزابی مادہ بہتا ہے اس کے نتیجہ میں جو بداثرات باقی رہ جاتے ہیں وہ کافی عرصہ تک آنکھوں کو متاثر رکھتے ہیں اور ان سے نظر دھندلا جاتی ہے۔یوفریز یا کی ایک خاص علامت یہ ہے کہ آنکھ سے تعلق رکھنے والے اعصاب پر فالج کا حملہ بھی ہو جاتا ہے۔پس اگر چہ یہ ایک حاد (Acute) دوا ہے مگر اس سے پیدا ہونے والی یہ تکلیف مزمن (Chronic) بھی ہوسکتی ہے۔اس کا فالج Third Nerve کو متاثر کرتا ہے۔یو فریز یا کو جرمن خسرہ (German Measles) کے علاج میں ایک امتیازی مقام حاصل ہے۔عام خسرہ میں تو اکثر پلسٹیلا استعمال ہوتی ہے لیکن جرمن میزنز میں یوفریز یا ایک لازمی دوا ہے۔اس میں بیماری کا آغاز آنکھوں پر بیماری کے حملہ سے ہوتا ہے اور آنکھیں بہت سرخ ہو جاتی ہیں۔یہ بیماری ویسے تو خطر ناک نہیں لیکن حاملہ عورتوں اور ہونے والے بچوں کے لئے بعض دفعہ انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ اگر پہلے تین مہینوں میں اس بیماری کا حملہ ہو جائے تو جنین کے اعضاء کی نشو و نما جہاں تک پہنچی ہو اسی مقام پر رک جاتی ہے اور بچہ بڑھتا نہیں ہے۔اس بیماری کی وبا کے دنوں میں حاملہ عورتوں کو بہت احتیاط سے کام لینا چاہئے کیونکہ یہ بہت خطرناک بیماری ہے۔ابتدائی تین مہینوں میں اگر یہ بیماری ہو تو یا تو بچوں کی آنکھیں ہی نہیں بنتیں یا دل کے بعض حصے خام رہ جاتے ہیں۔اسی طرح شنوائی پر بھی گہرا اثر پڑتا ہے اور بعض دفعہ بالکل اندھے اور بالکل بہرے بچے پیدا ہوتے ہیں۔بسا اوقات ایسے بچے چند مہینے کے اندر ہی مرجاتے ہیں اور اسے رحمت شمار کرنا چاہئے ورنہ جو بچے بچ جائیں وہ ماں باپ کے لئے عمر بھر کا روگ بن جاتے ہیں۔مزید احتیاط کا تقاضا ہے کہ اگر حاملہ عورت کو ابتدائی تین مہینوں میں خسرہ ہو جائے تو اسے ضرور اچھے کلینک میں داخل کروا کر یہ تسلی کر لینی چاہئے کہ کہیں یہ جرمن میزلز (German Measles) تو نہیں تھی جس کا اثر جنین پر پڑا ہو۔ایسی