ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 314
کوکس 314 اور اندرونی گرمی کے نتیجہ میں علامتوں میں تیزی آجاتی ہے مگر بعض دفعہ بیرونی گرمی سے بھی بیماری میں اضافہ ہوتا ہے۔۔کو کس میں اونچائی پر چڑھتے ہوئے سانس میں دقت اس لئے پیدا ہوتی ہے کہ سینہ میں بلغم بھری ہوتی ہے۔دل کی کمزوری سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔اگر بلغمی قے آ جائے تو چھاتی ایک دم ہلکی ہو جائے گی اور اونچائی پر چڑھنے میں دقت پیش نہیں آئے گی۔کو کس میں بلغم نکالنے کی کوشش سے کھانسی کا تعلق ہے جس کی وجہ سے گلے میں تشیخ ہو جاتا ہے۔کوکس کی بنیادی پہچان جلد اور اندرونی جھلیوں کی زود حسی ہے جیسے چھوٹی موٹی کے پودے کے قریب جائیں تو وہ سکڑ جاتا ہے۔یہ بھی بہت ہی چھوٹی موٹی دوا ہے۔گلے میں زود حسی اس کی خاص علامت ہے۔بعض اوقات نگلنے میں بھی دقت ہوتی ہے۔کو کس کے مریض کے پیشاب کی علامتیں بہت اہمیت رکھتی ہیں۔پیشاب کی سخت حاجت، اس میں پکی اینٹ کے ذروں کی طرح سرخ ذرے اور باریک پتھریاں اور یورک ایسڈ (Uric Acid) کی ملاوٹ ہوتی ہے جس کی وجہ سے گردے سے مثانے تک کاٹنے والے دردوں کی لہریں چلتی ہیں۔کبھی اچانک پیشاب بند ہو جاتا ہے۔عورتوں کی علامات میں ماہواری کا زیادہ گاڑھا ، سیاہی مائل اور لوتھڑے دار ہونا اس کی علامات میں شامل ہے جس کے ساتھ عموماً پیشاب رکنے کی بیماری بھی ہو جاتی ہے۔ماہواری رک رک کر آتی ہے اور صرف رات کو جاری ہوتی ہے۔بہنے والا نزلہ ختم ہونے کے بعد زرد رنگ کی چپکنے والی رطوبت ناک میں جم جاتی ہے۔ناک صاف کرنے کے بعد سطح پر جلن کا احساس ہوتا ہے۔اس میں بہت پیاس پائی جاتی ہے۔ذہنی، پژمردگی ، خاموشی ، اداسی یا بہت باتیں کرنے کی علامات لیکیس سے ملتی ہیں۔کوکس میں نزلہ کا اثر معدہ ،انتڑیوں یا اندرونی جھلیوں پر بھی ہوتا ہے۔طاقت : عموماً 30