ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 300 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 300

چاہتا 300 انہیں تمہیں نہیں کیا جاسکتا ہے۔اگر کچھ زندہ بچ گئے تو پھر نکلیں گے لیکن پہلے سے کمزور ہوں گے۔دوسرے تلہ پر بخار ختم ہونے لگے تو پھر جوابی حملہ کریں۔اگر چہ بظاہر یہ فلسفیانہ کی بات ہے لیکن ہے یہ ایک ٹھوس حقیقت جس کا میں بار ہا تجربہ کر چکا ہوں اور بہت سے دیگر ہومیو پیتھک معالجین بھی اس کی گواہی دیں گے۔ملیریا بخار کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی کمزوری اور دیگر علامات کو دور کرنے کے لئے بھی چائنا بہت مفید دوا ہے۔اس کا مریض چھونے سے سخت زود حس ہو جاتا ہے، حرکت سخت تکلیف دیتی ہے اور ٹھنڈی ہوا نا قابل برداشت ہوتی ہے۔تمام اعصاب زیادہ حساس ہو جاتے ہیں۔دماغی اور جسمانی کمزوری چائنا کی خاص علامت ہے۔مریض بے حد چڑ چڑا ، لا پرواہ، مایوس اور بدمزاج ہو جاتا ہے۔خیالات میں یکسوئی نہیں رہتی۔دوسروں سے بات چیت کرتے ہوئے سلسلہ کلام ٹوٹ جاتا ہے۔سر میں شدید درد کو جو گردن تک پھیلتا ہے، دبانے سے اور گرم کمرے میں آرام ملتا ہے۔پیشانی میں دھڑکن محسوس ہوتی ہے۔مریض ہلکا دباؤ برداشت نہیں کر سکتا جبکہ بھر پور دباؤ سے آرام آتا ہے۔لمس ، ہوا کے جھونکوں اور کسی چیز کی دھمک سے درد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔آنکھوں کے گرد نیلگوں سیاہی مائل حلقے پڑ جاتے ہیں۔جگر کی خرابی کی وجہ سے آنکھیں زرد ہو جاتی ہیں اور دباؤ محسوس ہوتا ہے۔نظر کمزور ہو جاتی ہے اور عارضی اندھا پن بھی پیدا ہو جاتا ہے۔نظام ہضم ست پڑ جاتا ہے۔پھل اور کھٹی چیزیں کھانے سے معدہ میں درد ہوتا ہے۔کھانا ہضم نہیں ہوتا، پیٹ پھول جاتا ہے۔اگر جگر اور تلی میں سوزش ہو اور سرقان کی علامتیں ظاہر ہونے لگیں نیز پتہ میں درد ہو تو ان سب علامتوں میں اگر چائنا مزاجی دوا ہوگی تو مفید ہوگی۔ایسی صورت میں یہ 30 طاقت میں کچھ عرصے تک مسلسل کھلانی چاہئے۔چائنا کے مریض میں خون بہنے کا رجحان ہوتا ہے۔گلے ، ناک اور رحم سے خون جاری ہو جاتا ہے۔جس کے ساتھ شیخی علامات بھی پائی جاتی ہیں۔حیض وقت سے بہت پہلے