ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 276 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 276

چیلی ڈونیم دائرہ اثر میں ہے۔276 چیلی ڈونیم کے مریض کے پیشاب کا رنگ زرد ہوتا ہے جس میں زہریلی سی تیزی پائی جاتی ہے۔اگر قبض ہو تو اجابت سخت گولیوں کی شکل میں ہوتی ہے جیسے بکری کی مینگنیاں ہوں۔اسہال شروع ہو جائیں تو ان کی رنگت بھوری مٹی کی طرح ہوتی ہے۔قبض اور اسہال آپس میں ادلتے بدلتے رہتے ہیں۔معدہ کا درد کمر تک پھیل جاتا ہے۔کھانا کھانے سے وقتی طور پر معدہ کی تکلیفوں میں آرام محسوس ہوتا ہے۔گرم خوراک اور گرم پانی مرغوب ہوتا ہے۔خصوصاً گرم ودھ پینے کی خواہش ہوتی ہے۔چیلی ڈونیم پتے کی پتھری میں بھی مفید ہے۔اس کا درد پیچھے کمر کی طرف پھیل جاتا ہے جبکہ بر برس کے مریض کا درد چاروں طرف پھیلتا ہے۔چیلی ڈونیم کی برائیونیا سے بھی مشابہت ہے۔اس کی تکلیفیں بھی عموماً دائیں طرف ہوتی ہیں اور حرکت سے تکلیف بڑھتی ہے لیکن فرق یہ ہے کہ برائیونیا میں جس طرف تکلیف ہو مریض اسی کروٹ پر لیٹتا ہے۔چیلی ڈونیم میں مریض اس کروٹ لیٹے تو تکلیف میں اضافہ ہو جاتا ہے۔چیلی ڈونیم کے مریض کو گرمی سے سر درد میں اضافہ ہوتا ہے۔گرم ملکوں میں یہ دوا گرمی کی شدت سے پیدا ہونے والے سر درد میں مفید ثابت ہوسکتی ہے۔چیلی ڈونیم میں سردرد کے ساتھ غنودگی اور چکر بھی آتے ہیں۔سر بھاری اور سن ہونے کا احساس بھی ہوتا ہے۔آگے کی طرف گرنے کا رجحان ہوتا ہے۔سردرد دائیں طرف کان کے پیچھے کندھے تک پھیل جاتا ہے۔دائیں کندھے اور سینہ کے دائیں طرف درد ہوتا ہے۔کھانسی کے ساتھ بلغم کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے نکلتے ہیں۔ہتھیلیاں اور کلائیاں دکھتی ہیں۔انگلیوں کے کنارے برف کی طرح ٹھنڈے ہو جاتے ہیں۔آنکھوں کے سفید پردے کا رنگ زردی مائل ہو جاتا ہے۔اوپر دیکھنے سے آنکھوں میں درد ہوتا ہے۔آنسو نکلتے رہتے ہیں۔اعصابی درد میں عموماً دائیں آنکھ کے اوپر اپنا مقام بناتی ہیں۔مریض کے چہرے کا رنگ زرد ہوتا ہے۔یہ زردی رخساروں اور ناک پر نمایاں ہوتی ہے۔جلد خشک اور زردی مائل ہوتی ہے۔زبان پر بھی زردی چھائی رہتی