ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 238 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 238

کاربواینیمیلس 238 کار بو انیمیلس کے مریض کو معدے میں شدید کمزوری اور خالی پن کا احساس ہوتا ہے۔کھانے کے بعد تھکن اور کمزوری ، وزن اٹھانے اور محنت مشقت سے بھی سخت کمزوری محسوس ہوتی ہے۔کولہوں اور کلائیوں میں درد ہوتا ہے۔عورتوں کے رحم کے منہ پر کینسر ہو جائے تو معالجین رحم نکالنے کا مشورہ دیتے ہیں۔حالانکہ یہ علاج بھی کارگر نہیں ہوتا۔اگر کار بوا سیمیلی آغاز میں ہی دے دی جائے تو شفا بخش ثابت ہوتی ہے۔عام سوزش اور دردوں میں بھی مفید ہے۔رحم کے منہ پر زخم ہو جائے تو لیکوریا بھی جاری ہو جاتا ہے جس میں بہت جلن ہوتی ہے۔کار بو ویج میں بھی ایسی ہی جلن کی علامت ہوتی ہے لیکن صرف اندرونی طور پر، بیرونی سطح پر ٹھنڈک کا احساس رہتا ہے۔رحم سے جلن دار لیکوریا کا اخراج ہو تو فوراً کار بود نیمیس استعمال کروانی چاہئے۔اگر تاخیر ہو جائے تو علامتیں بڑھ کر کینسر میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔حمل کی متلی کی بھی اچھی دوا بتائی جاتی ہے اور اس کی خاص علامت یہ ہے کہ رات کے وقت متلی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔اگر دودھ پلانے کے زمانے میں سخت کمزوری واقع ہو جائے اور اعصاب جواب دے جائیں تو کار بو ایمیلس کو فراموش نہیں کرنا چاہئے۔یہ غم رحم کی طرح رحم کے عمومی کینسر کی بھی دوا ہے۔ہو جاتا ہے۔اس کی خاص علامت یہ ہے کہ غدودیں پھول جاتی ہیں۔ہونٹوں اور گالوں کا رنگ نیلا کار بو انیمیلس میں حیض عموماً جلد اور مقدار میں زیادہ اور لمبا چلنے والا ہوتا ہے۔حیض کے دوران مریضہ سخت کمزور ہو جاتی ہے۔سیپیا سے مشابہ ناک کے اوپر سیاہی مائل نشان بن جاتا ہے جو رخساروں کے اطراف میں گالوں پر اترتا ہے۔سیپیا سے یہ نشان دور نہیں ہوتا کیونکہ سپیا کا اپنا ایک خاص مزاج ہے۔جب تک وہ نہ ہوسپیا سے فائدہ نہیں ہوتا۔عورتوں کی جسمانی کیفیت اور ساخت سپیا کی پہچان ہے، وہ نسبتا پتلی ہوتی ہے، اپنوں سے اجنبیت محسوس کرنے لگتی ہے، محبت کے جذبات میں کمی آجاتی ہے۔