ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 239 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 239

239 کار بواینیمیلس خصوصاً خاوند اور بچوں کو دلی محبت کے باوجود پسند نہیں کرتی اور بیزار ہو جاتی ہے۔اگر ایسی عورت کے ناک پر نشان ہو تو سپیا دینی چاہئے، فائدہ نہ ہوتو کار بو انیمیس ضرور دیں۔میرا تجربہ ہے کہ وضع حمل کے بعد ہونے والی تکلیفوں میں کار بو انیمیلس بہت مؤثر ہے۔اس سے ناک کا نشان بھی ختم ہو جاتا ہے۔کار بو انیمیلس حمل کی متلی میں بھی مفید ہے۔اگر مریضہ میں اس کی دیگر علامات موجود ہوں تو یہ سینے میں تختی اور درد کے لئے بھی اچھی دوا ہے۔سماعت کی خرابی میں بھی یہ اچھا کام کرتی ہے۔بسا اوقات دونوں کانوں کی قوت سماعت بگڑ جاتی ہے۔سماعت میں آوازوں کی پہچان نہیں رہتی۔آواز کی سمت کا تعین کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔سماعت پر اثر انداز ہونے والی نمایاں دواؤں میں چینوپوڈیم (Chinopodium) بھی شامل ہے۔اگر اعصابی کمزوری پیدا ہو جائے یا رطوبتوں کے لمبے عرصہ تک جمتے رہنے سے کان بند ہو جائیں تو چینو پوڈیم دوا ہوسکتی ہے۔اسے 30 یا 200 طاقت میں دو تین مہینے استعمال کرتے رہنا چاہئے۔بعض دفعہ ایسے مریض کو اچانک فائدہ محسوس ہوتا ہے اور اس سے پہلے کان میں بار بار جھپکے آنے لگتے ہیں۔کار بو انیمیلس مواد جمنے کا علاج نہیں بلکہ بڑھتی ہوئی اعصابی کمزوری کا علاج ہے اور بسا اوقات یہ کمزوری دونوں کانوں میں بیک وقت پائی جاتی ہے جبکہ چینوپوڈیم کا اثر اکثر ایک ہی کان پر پڑتا ہے۔پر چہرے پر کیل مہاسے نکلیں۔ہاتھ پاؤں سردی کی وجہ سے متورم ہو جائیں تو کار بو انیمیکس اچھی دوا ہے۔ہاتھوں اور چہرے پر مسے نکلنے کا رجحان روکنے میں بھی یہ مفید ثابت ہوتی ہے۔جسم میں تخلیقی توازن بگڑنے سے ہڈیوں میں غیر ضروری ہر ھوتی ہونے لگتی ہے جس میں کینسر کا رجمان پایا جاتا ہے۔اگر جسم میں کوئی غیر معمولی تبدیلی رونما ہوا کار با المجلس فورا دینی چاہئے۔کاربوا تیمیس کے مریضوں کے ٹخنے کمزور ہو جاتے ہیں جو چلتے چلتے بار بار مڑ جاتے ہیں