ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 118 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 118

118 آرم میور کان کے پیچھے جلن اور خارش ہوتی ہے۔نیز یہ ناک کی تکلیفوں اور پرانے نزلوں میں بھی مفید دوا ہے۔آرم میور میں ناک کے جمے ہوئے مواد کو اکھیڑنے کی کوشش کریں تو خون نکلنے لگتا ہے۔زردی مائل سبز مواد خارج ہوتا ہے۔نتھنوں کے کناروں پر لیوپس (Lupus) ہو جائے تو اس میں آرم میور کو مفید بتایا گیا ہے۔آرم میور میں اجابت سبزی مائل یا مٹیالے رنگ کی ہوتی ہے۔یہ علامت جگر کی خرابی کی نشاندہی کرتی ہے۔بسا اوقات بالکل بے رنگ سفیدی مائل اجابت ہوتی ہے۔اسہال رات کو بڑھتے ہیں۔پیشاب بھی رات کو زیادہ آتا ہے۔بعض اوقات رات کو بستر میں پیشاب نکل جاتا ہے۔منہ سے رالیں بہتی رہتی ہیں۔آرم میور رحم کے بڑھ جانے اور اس کی تختی میں خصوصا رحم کی گردن کی تختی میں بہت مفید دوا ہے۔رحم کی گردن کی تکلیفوں میں کار بو اینیمیس ، ٹیرنڈلا ہسپانیہ اور لیپس البس (Lapis Albus) بھی بہت مفید ہیں۔اگر ذہنی ہیجان کی وجہ سے نیند اڑ جائے تو اور دواؤں کے علاوہ آرم میور بھی کام آ سکتی ہے بشرطیکہ جسم میں جگہ جگہ دھڑکنیں پائی جائیں۔ایسے مریض کو تشدد آمیز یا غم ناک خواب نظر آتے ہیں۔مریض عموماً اپنی بیماری کی کیفیت کے مطابق خواب دیکھتا ہے۔اگر تشدد والے خواب نظر آئیں تو اس کا مطلب ہے کہ بیماری خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔اگر غم کی خوا ہیں آتی ہیں تو مرض ابھی ابتدائی حالت میں ہے اور نسبتاً جلد افاقہ ہونے کا امکان ہے۔اکثر ہو میو پیتھ آرم میور کو پلسٹیلا اور کالی سلف کے مشابہ دوا سمجھتے ہیں لیکن در حقیقت ان میں بہت فرق ہے۔حمل کے بالکل ابتدائی ایام میں بلکہ پہلے دن شک پڑتے ہی آرم میور CM ایک خوراک دینے سے خدا کے فضل سے اکثر بیٹا پیدا ہوتا ہے۔اگر زیادہ دن او پر چڑھ جائیں تو پھر یہ دوا بے اثر ہو جاتی ہیں۔بیٹا ہونے کے معاملہ کو قاعدہ کلیہ ہرگز نہیں بنایا جا سکتا۔میرے علم میں ایسی عورتیں بھی ہیں جنہوں نے دن چڑھتے ہی آرم میور CM کی