ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 117
آرم میور 117 30 آرم میور AURUM MURIATICUM آرم میور سونے کے نمک سے تیار کی جانے والی دوا ہے۔اس کی اکثر تکلیفیں دل کے گرد گھومتی ہیں اور آرم مٹیلیکم کی طرح اس میں جگر اور دل کی بیماریاں اکٹھا حملہ کرتی ہیں۔پیشاب میں یوریا بھی آتا ہے۔یہ دوا غدودوں کی بیماریوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔چنانچہ اسے غدودوں کے کینسر میں بھی مفید بتایا گیا ہے۔اگر اس کی علامتیں موجود ہوں تو یہ دوا خطرناک کینسر میں بھی شفا بخش ثابت ہوتی ہے۔آرم میور کی خاص علامت جلن دار در دیں ہیں۔جسم میں جہاں کہیں بھی درد ہو گا وہاں جلن پائی جائے گی۔اس کی تکلیفیں ٹھنڈے بھیگے ہوئے موسم میں آرام پاتی ہیں جبکہ بھیگا ہوا گرم موسم آرم میور کی تکلیفوں میں اضافہ کر دیتا ہے۔آرم میٹیلیکم کی طرح اس میں بھی خود کشی کا رجحان پایا جاتا ہے۔لیکن مریض اپنی ذات کی تنہائی میں قید ہونے کی بجائے بدمزاج ، چڑ چڑا اور جھگڑالو ہو جاتا ہے۔آرم میور کی تکلیفوں میں دھڑکن پائی جاتی ہے۔اگر آنکھوں میں آ تشک (Syphilis) سے مشابہ علامتیں پائی جائیں یعنی ہڈیاں گلنے اور کھوکھلی ہونے کا رجحان ہو تو اس میں مفید ہے۔آرم میور کے مریضوں کی نظر مصنوعی روشنی میں کمزور ہو جاتی ہے۔اگر ویسے نظر بالکل ٹھیک ہولیکن رات کے وقت روشنیوں میں نمایاں کمزوری ہو تو آرم میورا سے دور کرنے کے لئے اچھی دوا ہے۔آرم میور میں موسیقی سننے سے تکلیفوں کو آرام ملتا ہے۔اس علامت کا تعلق کانوں سے ہے۔کان کی تکلیفوں کو موسیقی سے آرام آئے تو پھر یہ دوا مفید ہوگی۔رات کو