ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 114
آرم میٹ 114 ایک علامت دیکھی ہوئی ہے کہ اس میں چاند کی روشنی سے سکون ملتا ہے۔میرے نزدیک یہ عام سی بات ہے کوئی راہنما علامت نہیں۔آرم میٹ میں آنکھوں کے سامنے ستارے ٹوٹتے دکھائی دیتے ہیں۔کلکیر یا میں چمکدار ستارے نیچے سے اوپر کی طرف جاتے ہوئے نظر آتے ہیں جبکہ آرم میٹ میں اوپر سے نیچے کی طرف۔یہ علامت را ہنما ہے اور آرم میٹ کی پہچان میں مدد دیتی ہے۔بعض دفعہ آنکھیں پھول کر باہر آ جاتی ہیں۔ایلو پیتھی میں اس کا علاج عموماً آپریشن سے کیا جاتا ہے۔اس بیماری کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔غدودوں کی خرابیاں، گٹھلیاں یا سلی مادوں کی موجودگی سے آنکھ کے ڈھیلے پھول جاتے ہیں۔آرم میٹ میں کوئی معین وجہ تو نہیں بتائی گئی لیکن اسے ایسی پھولی ہوئی آنکھ کے علاج میں مفید بتایا گیا ہے۔میں نے نیٹرم میور اور بیسی لینیم کو بھی اس میں بہت مفید پایا ہے۔اگر آنکھ میں خون کا دباؤ زیادہ ہوتو ہیلا ڈونا اور آرنیکا بھی ساتھ ملا کر دینا چاہئے۔سب سے اہم بات یہ پیش نظر رکھنی چاہئے کہ مریض کے مزاج کو سمجھ کر دو تشخیص کی جائے۔ہر مریض کا کوئی نہ کوئی خاص نسخہ ہے جو اس کے مزاج اور روزمرہ کے سے تعلق رکھتا ہے، وہ معلوم کرنا چاہئے لیکن اگر بہت سی علامتیں گڈ مڈ نظر آئیں اور تشخیص نہ ہو سکے تو پھر مذکورہ بالا مجوزہ نسخہ استعمال کر کے دیکھیں۔میں نے تو اسے بہت مفید پایا ہے۔آرم میٹ کان کے زخموں میں بھی مفید ہے۔کان کی بیرونی ہڈیوں سے تکلیف شروع ہو کر کان کے اندر منتقل ہو جاتی ہے اور باریک ہڈیوں کے جال کو متاثر کرتی ہے، جس سے کان کے اندر تعفن پیدا ہو کر بد بودار مواد خارج ہونے لگتا ہے۔آرم میٹ میں ناک کے نزلے مزمن ہوتے ہیں اور ان کا بلغمی جھلیوں جسے تعلق نہیں ہوتا بلکہ ہڈیوں کی خرابی سے تعلق ہوتا ہے۔نیٹرم میور کا تعلق ناک کی جھلیوں سے ہوتا ہے، ہڈیوں سے نہیں۔اگر نزلہ میں نیٹرم میور دیا جائے تو ابتدا میں علامات شدت اختیار کر جاتی ہے اور ناک سے بہت پانی بہتا ہے لیکن جب ٹھیک ہو جائے تو کوئی علامت بھی باقی نہیں رہتی۔