ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 115
آرم میٹ 115 ہومیو پیتھک طریقہ علاج میں آرم میٹ کا پرانے دبے ہوئے سفلس سے جو تعلق بتایا جاتا ہے اس کی تصدیق میں ایلو پیتھک محققین کے سامنے نئے شواہد آئے ہیں۔امریکہ میں جب بعض ایڈز کے مریض زیادہ خطرناک صورت اختیار کر گئے تو ان میں سفلس کی علامتیں بھی ظاہر ہوگئیں جو پہلے قطعا موجود نہیں تھیں۔مزید چھان بین پر یہ انکشاف ہوا کہ ایسے مریضوں کے آباء واجداد میں سے بعض کو یقینی طور پر سفلس ہوا تھا جو اس وقت کے علاج سے بظاہر ٹھیک ہو گیا تھا۔آرم میٹ کی ایک علامت یہ ہے کہ ناک کے اوپر نیلے رنگ کی وریدوں کا جال بن جاتا ہے اور ان میں خون جمنے کا رجحان بھی ہوتا ہے جیسے ویری کوز وریدوں (Vericose Veins) کا مرض ہو۔آرم میٹ میں ناک کے علاوہ ہونٹ بھی نیلے ہو جاتے ہیں۔آرم میٹ کی جگر کی تکلیفوں میں جگر پتھر کی طرح سخت ہو جاتا ہے۔گٹھلیاں سی بن جاتی ہیں۔(Inguinal Hernia) ہرنیا میں بھی یہ مفید دوا ہے۔رحم کی سختی اور سوزش میں مفید ہے۔حیض کا خون دیر سے آتا ہے اور مقدار میں کم ہوتا ہے۔یہ علامت نیٹرم میور میں بھی پائی جاتی ہے لیکن فرق یہ ہے کہ نیٹرم میور میں حیض کے دنوں میں کمر میں شدید درد ہوتا ہے اور شادی شدہ عورتوں کی بجائے اکثر کنواری بچیوں میں یہ تکلیف زیادہ پائی جاتی ہے۔ایسی علامات میں بسا اوقات نیٹرم میور کی صرف ایک ہی خوراک اثر دکھاتی ہے۔آرم میٹ میں کسی مخصوص درد کی علامت نہیں ملتی لیکن ادھر ادھر پھرنے والی دردیں رہتی ہیں جو کسی خاص مقام کی نشاندہی نہیں کرتیں۔آرم میٹ کی اکثر علامتیں ارجنٹم میٹیلیکم سے ملتی ہیں لیکن بعض فرق کرنے والی علامتیں بھی ہیں۔ارجنٹم میٹ میں جسم کی تکلیفوں کے دوران نرم اور آہستہ حرکت سے آرام آتا ہے جبکہ آرم میٹ میں ایسی حرکت سے تکلیف ہوتی ہے خصوصاً تیز چلنے سے دل پر خون کا دباؤ بڑھ جاتا ہے اور دل میں جکڑن اور گھٹن کا احساس ہوتا ہے لیکن ارجنٹم میں اس سے بالکل برعکس کیفیت ہوتی ہے۔