حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 56 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 56

56 " " ۲۲ جنوری کو حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی ٹورنامنٹ کے اختتام پر بھی جلسہ تقسیم انعامات میں شامل ہوئے۔اور اس جلسہ میں حضور نے مدرسہ احمدیہ کے سکاؤٹس کو اپنے ہاتھ سے میڈل لگائے جو ناظر صاحب ضیافت اور افسر جلسہ سالانہ حضرت میر محمد اسحاق صاحب کی طرف سے جلسہ سالانہ کے موقع پر راتوں رات جلسہ گاہ کو وسیع بنانے کی وجہ سے دئیے گئے تھے۔"س نماز کی ادائیگی کے لئے چبوترے کی تعمیر آپ کی خدمت کا ایک اور واقعہ آپ کے بچپن کے ساتھی ملک محمد عبد اللہ صاحب سابق لیکچرار تعلیم الاسلام کالج ربوہ یوں بیان کرتے ہیں۔۱۹۲۸ء میں جب مدرسہ احمدیہ سے الگ جامعہ احمدیہ کا قیام عمل میں آیا تو حضرت مرزا ناصر احمد صاحب بھی جامعہ کے ابتدائی طلباء میں شامل تھے۔جامعہ کی عمارت تعلیم الاسلام ہائی سکول اور بیت النور کے قریب ایک چھوٹی سی کوٹھی میں تھی جو جامعہ کی چار مختصر کلاسوں کے لئے کافی تھی۔تھوڑے ہی عرصہ کے بعد حضرت صاحبزادہ صاحب کو خیال آیا کہ اگرچہ بیت النور بھی قریب ہی ہے مگر انفرادی طور پر نماز اوا کرنے کے لئے کوئی جگہ ہونی چاہئے۔چنانچہ کوٹھی کے ایک جانب نماز کی ادائیگی کے لئے ایک 4 x ۴ فٹ چبوترہ بنانے کا پروگرام بنا۔یہ کام طلباء نے خود ہی کیا جس میں صاحبزادہ صاحب نے بھی بھرپور حصہ لیا۔شام تک یہ چبوترہ اینٹوں اور گارے سے مکمل ہو گیا اس کے اوپر کی سطح زیادہ ہموار نہیں تھی کیونکہ ہم لیول (LEVEL) کرنا تو جانتے نہ تھے اور نہ ہی ہمارے پاس کوئی اوزار تھے۔بہرحال ہم نے وچا کہ اس نقص کو ہم سیمنٹ بچھا کر دور کر لیں گے اور پھر اوپر صف بچھ جائے گی جس سے ہماری مہارت بالکل او جھل ہو جائے گی۔شام کو سب