حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 57
57 رو جب میں گھر آیا تو ہمارے پڑوس میں سری گوبند پور کے ایک ماہر معمار ٹھیکیدار فیض احمد صاحب رہتے تھے جن سے میں نے اپنا ایک کمرہ بھی بنوایا تھا۔ان سے ملاقات ہوئی۔انہیں اس بات پر آمادہ کر لیا کہ وسرے دن نماز فجر کے بعد وہ میرے ساتھ جامعہ چلیں گے اور سیمنٹ کی اوپر کی تہ وہ بچھا دیں گے چنانچہ فجر کی نماز کے معا بعد ہم دونوں تھوڑا سا سیمنٹ لے کر جامعہ پہنچے اور مستری صاحب نے تھوڑے سے وقت میں چبوترہ پر بڑا عمدہ فرش بچھا دیا اور بھی جو تھوڑا بہت نقص تھا۔ٹھیک کر دیا اس کے بعد جب آٹھ بجے جامعہ کھلنے پر طلباء آئے صاحبزادہ صاحب بھی تشریف لائے تو سب اس بات پر حیران کہ چبوترہ کا وہ سیمنٹ کا فرش نہایت عمدگی سے رات کو کون کر گیا۔حضرت صاحبزادہ صاحب کچھ بسکٹ اور ٹافیاں لائے تھے کہ آج چبوترہ مکمل ہونے پر طلباء میں تقسیم کر دیں گے۔وہ انہوں نے مجھے دیں کہ سب میں بانٹ دیں نیز آپ نے دو روپے بھی مجھے دیئے کہ یہ مستری صاحب کو دے دیں۔“ ابتدائی زندگی میں آپ کے خیالات و افکار ابتدائی زندگی میں آپ کے جو خیالات و افکار تھے۔ان کے نقوش آپ کی ڈائری کے صفحات میں صاف نظر آتے ہیں۔۱۹۲۷ء میں جب آپ کی عمر تقریباً اٹھارہ سال کی تھی۔آپ اپنی ڈائری پر زیر عنوان "پردہ" ان خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔" پر دہ۔ہاں وہ پردہ جس سے اسلام کی شان بلند ہوتی تھی اس سے آج اسلامی دنیا پھر رہی ہے۔حالانکہ پہلے زمانہ میں باوجود اس پردہ کے عورتیں مردوں سے کم کام نہ کرتیں تھیں جیسے عائشہ تیموریہ کہتی ہیں۔کو آج کے فلسفی کہتے ہیں کہ پردہ سے عورتوں کے حقوق مارے