حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 722
672 موجودہ حالات ہر صاحب فراست کے دل میں تشویش پیدا کر رہے ہیں۔اندرونی دشمن دشمنی کے کاموں میں لگے ہوئے ہیں اور بیرونی دنیا کا ایک بڑا حصہ ہمارا دوست نہیں ہے بلکہ وہ ہمارا دشمن ہے اور ان کی باتیں، ان کے منصوبے، ان کی خواہشات اور ان کے عمل ہمارے ملک کے خلاف ہیں۔گو ساری دنیا تو ہمارے خلاف نہیں۔۔۔۔لیکن دنیا کا ایک بڑا حصہ ہمارا دشمن ہے جو عجیب شاطرانہ چالوں اور دجالانہ منصوبوں سے ہمیں نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔پس اندرونی دشمن بھی اس وقت اپنی شرارتوں میں تیز ہو رہے ہیں اور بیرونی دشمن تو بهر حال دشمن ہے اس واسطے قوم پر اس وقت ایک ابتلاء کا وقت ہے۔دعاؤں اور صدقات سے ابتلاء دور ہو جایا کرتے ہیں۔اس لئے آپ دعائیں کریں اور استحکام پاکستان کے لئے جس حد تک ممکن ہو صدقات بھی دیں لیکن اس سے بھی بڑھ کر یہ ضروری ہے کہ ہم یہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس ملک کے باشندوں کو بھی دعا کرنے اور خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۸۹ حضور نے غیر ملکی دوروں کے دوران بھی جو پیغامات پاکستان بھیجے ان میں پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے لئے دعاؤں اور صدقات کی تحریک کی یاد دہانی کروائی چنانچہ ۱۹۷۳ء کے دورہ کے دوران کوپن ہیگن ڈنمارک سے اپنے پیغام میں فرمایا:۔اسلام اور احمدیت کی سربلندی اور اس تربیتی دورے کے بحریت اختتام پذیر ہونے کے لئے درد دل سے دعائیں کریں نیز پاکستان کی سلامتی اور سیلاب زدگان کی امداد کے لئے ہر ممکن کوشش کرتے رہیں۔" اتحاد بین المسلمین کی تحریک حضور نے خلافت کے بالکل شروع میں اتحاد بین المسلمین کی تحریک فرمائی جو