حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 721
671 الثالث ” نے پاکستان کے لئے دعاؤں کی تحریک کو جاری رکھا اور فرمایا:۔حضرت رسول اکرم علی نے فرمایا ہے حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الْإِيْمَانِ فرمایا:۔پھر فرمایا:۔اپنے وطن سے محبت کرنا جزو ایمان ہے۔آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ماؤں کے پاؤں تلے جنت ہے۔اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ مادر وطن کے پاؤں تلے جنت ہے بعض لوگ یہ افواہیں پھیلاتے رہے ہیں کہ ہم اس جنت کو چھوڑ کر کہیں باہر جانے کا خیال رکھتے ہیں۔ہم مادر وطن کے پاؤں کی جنت سے باہر کیسے جائیں گے جب کہ ہمارے محبوب آقا حضرت محمد مصطفی میں ہم نے ایک طرف یہ فرمایا ہے حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الْإِيْمَانِ اور دوسری طرف یہ کہ ماں کے پاؤں تلے جنت ہے۔مادر وطن کے پاؤں تلے جنت ہے۔اسی طرح انسان مادر وطن میں اپنے لئے جنت کا ماحول پیدا کرتا ہے ۸۶ " پاکستان ہمارا وطن ہے، اس میں بسنے والے احمدیوں کا یہ وطن ہے۔اس وطن میں اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کا مرکز بنایا ہے۔۔۔۔ہم نے اس ملک سے اس طرح خدمت لینی ہے کہ پاکستان جو ہمارا پیارا ملک ہے وہ دنیا کے معزز ترین ممالک میں شمار ہونے لگے۔۔۔۔" ہم نے بہر حال دعائیں کرنی ہیں۔یہ ذمہ داری کہ دعاؤں کے ساتھ ہم اپنے ملک کے استحکام اور اس کی خوش حالی کے سامان پیدا کریں بہت بڑی حد تک جماعت احمدیہ پر عائد ہوتی ہے ۸۸ اس سے قبل ۲۲ ستمبر ۱۹۷۲ء کے خطبہ جمعہ میں حضور نے پاکستان کی سلامتی اور استحکام کے لئے دعاؤں اور صدقات کی تحریک فرمائی۔حضور نے فرمایا :۔ضروری بات میں اس وقت یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے ملک کے