حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 716 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 716

666 میں شہر کے علاوہ اردگرد کے علاقے کے لوگ بھی جمع ہوتے اور نماز عید ادا کرتے ہیں۔میں نے سوچا ہر ملک میں شہر سے باہر فاصلہ پر جہاں زمین کی قیمت زیادہ نہ ہو ہیکٹر ڈیڑھ ہیکٹر زمین خرید لی جائے۔مثال کے طور پر لندن سے تھیں میل باہر اتنی زمین خرید کر وہاں عیدہ گاہ کی طرز پر ایک تو غیر مسقف کھلی مسجد بنائی جائے جہاں نماز پڑھی جا سکے۔اس سے ہٹ کر ایک طرف ایک کمرہ ہو جو سٹور کا کام دے۔ایک حسب ضرورت بڑا شیڈ ہو جو دھوپ اور بارش میں پناہ Shelter کا کام دے باقی زمین میں جنگل اگانے کے علاوہ بچوں کے لئے پھل اور درخت لگا دیئے جائیں اور اس سے ملحقہ زمین میں بچوں کو لے جا کر ان کے تربیتی اجتماعات منعقد کئے جائیں نیز تفریح کی غرض سے وہاں پکنک وغیرہ منائی جائے اور دوسروں کے بچوں کو بھی مدعو کیا جائے کہ وہ ہمارے بچوں کے ساتھ مل کر اس جگہ پکنک منائیں اس طرح ہمارے بچوں اور دوسرے بچوں میں اور خود بڑوں میں میل ملاپ بڑھے گا اور دونوں کے درمیان جو Barrier ہے جس کی وجہ سے یہاں کے لوگ ہم سے دور دور رہتے ہیں اور ہمارے قریب نہیں آتے ٹوٹنا شروع ہو جائے گا۔اس لئے ضروری ہے کہ ایسی جگہ کی تلاش کی جائے جو آبادیوں سے پرے دور ہٹ کر ہو اور سستی مل سکے اور رفتہ رفتہ اسے دینی اور جماعتی اغراض کے علاوہ پکنک سپاٹ Picnic Spot اور تبلیغی جگہ کے طور پر بھی ڈویلپ Delvelope کیا جا سکے۔سو یہ درمیان میں حائل رکاوٹ یا بیرئیر" کو توڑنے کا منصوبہ ہو گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں منصوبہ کو عملی جامہ " پہنانے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۸۱ اسی سال امریکہ کے دورہ کے دوران حضور نے فرمایا:۔” میں نے ۱۹۷۶ء میں آپ لوگوں کو ملک کے مختلف علاقوں میں