حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 717 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 717

667 کمیونٹی سنٹرز قائم کرنے کی غرض سے زمینیں خریدنے کی ہدایت کی تھی لیکن آپ نے میری اس ہدایت پر عمل نہیں کیا۔میں نے اس سکیم میں بعض تبدیلیاں کی ہیں ان میں سے ایک اہم اور بنیادی تبدیلی یہ ہے کہ آپ کمیونٹی سنٹرز کی بجائے مختلف علاقوں میں عید گاہیں بنانے کا پروگرام بنائیں اور اسے جلد از جلد عملی جامہ پہنانے کے لئے اقدامات کریں۔۔عید گاہ جسے آبادی سے باہر کھلی فضا میں Open air Mosque کے طور پر بنایا جاتا ہے اسلام میں ایک مستقل ادارہ کی حیثیت رکھتی ہے۔کہا تو اسے عید گاہ جاتا ہے یعنی وہ جگہ جہاں عیدین کی نمازیں پڑھی جاتی ہیں لیکن اس کھلے علاقہ کو جس میں عید گاہ بنائی جاتی ہے دیگر تربیتی مقاصد کے لئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے مثلاً آپ چار پانچ ایکڑ زمین خرید کر اس میں عید گاہ کی طرز پر کھلی فضا میں غیر مسقف مسجد بنائیں ، سامان وغیرہ رکھنے کے لئے ایک سٹور اور بارش وغیرہ سے بچنے کے لئے ایک بڑا سا شیڈ بنا لیں باقی زمین میں پھلدار پودے اور درخت لگا دیں اور اس احاطہ کو اپنے تربیتی اجتماعوں اور پکنک وغیرہ کے لئے استعمال کریں۔چھٹیوں کے دوران کئی احمدی گھرانے مل کر وہاں جائیں اور اپنے ساتھ بچوں کو بھی لے جائیں۔بچے وہاں کھیلیں کو دیں اور پکے ہوئے پھل درختوں سے توڑ توڑ کر آزادی سے کھائیں اور ساتھ کے ساتھ ان کی تربیت بھی کریں۔اس طرح بچوں کی تفریح بھی ہو جائے گی اور بہت خوشگوار ماحول میں تربیت کی سہولت بھی میسر آجائے گی۔یہاں ہماری تبلیغ میں ایک بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ یہاں کے لوگ ہمارے قریب نہیں آتے اور نہ ہم ان کے قریب ہوتے ہیں۔ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار سی حائل ہے جب تک یہ دیوار نہیں ہے گی ہم انہیں اسلام کے قریب نہیں لا سکیں گے۔عیدہ گاہ اس دیوار