حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 46 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 46

46 کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔امارت اور غربت کا اثر لینے والے نہ تھے۔چھوٹے بڑے کے حقوق ادا کرنے والے اور ہر ایک کا مرتبہ پہچاننے والے تھے۔حضرت اماں جان کی صحبت میں رہنے کی وجہ سے زبان بڑی منجھی ہوئی اور دھلی ہوئی تھی۔باوجود پنجابی ماحول میں رہنے کے لہجہ دہلی والے شرفاء کا تھا۔کھانا حضرت امان جان کے ساتھ کھاتے تھے۔حضرت اماں جان کے ہاں نہایت اچھا کھانا پکتا تھا۔آپ خوش خور نہیں تھے مگر خوش پسند ضرور تھے۔طبیعت میں کسی قسم کا لالچ اور چھوٹا پن نہ تھا۔استغناء کمال کا تھا ہر قسم کی حرص سے بالا تھے۔۸۰ بچپن میں محبت الہی کے جلوے رم معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے ساتھ بچپن سے اللہ تعالیٰ کا سلوک امتیازی تھا۔جہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کی مقدس دادی حضرت اماں جان ، آپ کے بزرگ والد مصلح موعود اور آپ کی والدہ حضرت ام ناصر نے آپ کو نہایت محبت اور لگن کے ساتھ آپ کی پرورش اور تربیت کرنے کی توفیق بخشی وہاں آپ کے بچپن سے ہی محبت الہی کے جلوے نظر آتے ہیں کہ کس طرح اللہ تعالٰی بھی براہ راست آپ سے پیار کرتا تھا۔اور آپ کے منہ سے نکلی ہوئی ہر بات کو پورا کرتا تھا۔آپ کے والد حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ المسیح الثانی اس قسم کا ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں جس سے پتہ لگتا ہے کہ کس طرح آپ کے منہ سے نکلی ہوئی بات اللہ تعالیٰ پوری فرماتا تھا۔فرمایا :۔" مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ دریا پر گیا۔بھائی عبدالرحیم صاحب جو میرے استاد رہے ہیں اور کچھ اور دوست میرے ساتھ کشتی میں سوار تھے۔جب ہم کشتی میں بیٹھے دریا کی سیر کر رہے تھے تو میرے لڑکے ناصر