حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 45
45 ہوئی ہوتی تو بھائی بتا کے جاتے کہ انہیں دیر ہو جائے گی۔بھائی کو شکار کا بہت شوق تھا اور چھٹی والے دن بھائی ساتھ والے گاؤں بھینی یا ننگل کی طرف نکل جاتے اور فاختہ اور دوسرے پرندے مار لاتے۔بعد میں تو میرا نشانہ بھی اچھا ہو گیا مگر اس وقت میرا نشانہ بہت اچھا نہ تھا۔بھائی کا نشانہ اتنا حیران کن حد تک اچھا تھا کہ میں نے دیکھا کہ ہوائی بندوق سے وہ اڑتی ہوئی بھڑ کو مار لیتے۔جوں جوں عمر گزرتی گئی شکار کی نوعیت بھی بدلتی گئی۔چڑیوں اور فاختاؤں سے ہم لوگ تیتر مرغابی پر آگئے اور پھر جب بھی شکار کو جاتا ہوتا تو اکٹھے ہو کر دریائے بیاس پر یا پھر پٹھانکوٹ کے پہاڑی علاقہ میں جاتے۔تفریح کے لئے قادیان کے ساتھ والی نہر پر بھی جاتے جہاں بعض اوقات حضرت مصلح موعود کے علاوہ اور بہت سے بزرگ بھی جاتے اور سارا دن تفریح میں گزارتے۔آپس میں مقابلے بھی ہوتے۔حضرت اماں جان کو تو بھائی سے پیار تھا ہی مگر حضرت مصلح موعود کو بھی ان سے بہت پیار تھا۔مجھے یاد نہیں کہ حضرت مصلح موعود نے بھائی کو سختی سے ڈانٹا ہو۔یہ میں نے بچپن سے جوانی تک دیکھا۔“ ۲۷ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مبشر اولاد کے بعد صرف آپ کو یہ فخر حاصل ہے کہ آپ کی ساری تربیت حضرت ام المومنین نصرت جہاں بیگم ان کے ہاتھوں سے ہوئی۔حضرت اماں جان ان کی تربیت کے نتیجے میں آپ نے جو رنگ ڈھنگ اختیار کیا اس کا نقشہ آپ کے چچا زاد بھائی کرنل داؤ د احمد صاحب اس طرح کھینچتے ہیں۔" پہلا نظارہ جو میرے دماغ میں ہے وہ اس وقت کا ہے جب آپ حضرت اماں جان کی تربیت و کفالت میں تھے۔دس گیارہ سال کا سن خوبصورت چہرہ ، سفید رنگ پاک صاف کپڑے پہنے ہوئے لمبا کوٹ عادات کے لحاظ سے نہ بہت شوخ و شنگ نہ بالکل لاگے نہ بے جا شرمیلے کہ کسی سے بات بھی نہ کرنی۔بچپن کے باوجود ایک وقار تھا۔کسی قسم کی INHIBITION نہیں تھی۔طبیعت میں نفاست کوٹ