حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 47 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 47

47 احمد نے اپنے بچپن کے لحاظ سے کہا کہ ابا جان اگر اس وقت ہمارے پاس مچھلی بھی ہوتی تو بڑا مزہ آتا۔میں نے کہا لوگ کہتے ہیں کہ پانیوں میں خواجہ خضر کی حکومت ہے۔اگر خواجہ خضر کوئی مچھلی ہماری طرف پھینک دیں تو تمہاری یہ خواہش پوری ہو سکتی ہے۔جب میں نے یہ فقرہ کہا تو بھائی عبدالرحیم صاحب جھنجھلا کر کہنے لگے کہ آپ کیسی باتیں کرتے ہیں۔اس سے بچے کی عقل ماری جائے گی۔میں نے کہا ہمارے خدا میں تو سب طاقتیں ہیں وہ چاہے تو ابھی مچھلی بھیجوا دے۔میں نے یہ فقرہ ابھی ختم ہی کیا تھا کہ یکدم پانی کی ایک لہر اٹھی اور ایک بڑی سی مچھلی کود کر ہماری کشتی میں آگری۔میں نے کہا۔دیکھ لیجئے خدا تعالیٰ نے اپنی قدرت نمائی کر دی اور ہمارے دل میں جو خواہش پیدا ہوئی تھی وہ اس نے پوری کر دی۔خواجہ خضر بے شک وفات پا چکے ہیں مگر ہمارا خدا جو ہمارا خالق اور مالک ہے اور سمیع الدعا ہے وہ تو زندہ ہے اور وہ ہمارے جذبات کو جانتا ہے اس نے اس خواہش کو دیکھا اور میری بات کو پورا کر دیا۔۲۹ اس واقعہ سے جہاں حضرت مصلح موعود کے عظیم روحانی مقام کا پتہ لگتا ہے وہاں صاحبزادہ مرزا ناصر احمد سے اللہ تعالیٰ کی محبت کا ثبوت بھی ملتا ہے کہ کس طرح لمحہ بھر میں اللہ تعالیٰ نے آپ کی ایک ہلکی سی خواہش کو بھی پورا کر دیا جو بے اختیار آپ کی معصوم زبان سے نکلی تھی۔آپ کی عملی زندگی پر نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے منہ سے جس چیز کی بھی خواہش کا اظہار ہوا اللہ تعالٰی نے غیر معمولی طور پر اس کے پورا کرنے کے سامان پیدا فرما دیے۔چنانچہ اپنی خلافت کے دوران جتنے بھی منصوبے آپ نے بنائے انہیں اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی طور پر پورا فرمایا اور ہر اس لفظ کو پورا کر دکھایا جس کا آپ نے اعلان فرمایا۔