حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 523
470 ہیں وہ بھی انسان ہی۔ہمارے تعلقات کی بنیاد اس اصل پر ہونی چاہئے که محبت سب سے نفرت کسی سے نہیں قرآن کریم انسان انسان میں کامل مساوات کی تعلیم دیتا ہے۔وہ کہتا ہے کہ بحیثیت انسان مرد مرد میں اسی طرح عورت، عورت میں اور علی ہذا مرد اور عورت میں کوئی فرق نہیں سب مساوی حیثیت کے مالک ہیں۔قرآن کی رو سے انسانوں کے مابین اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ مساوات کو واضح کرتے ہوئے حضور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جسمانی، ذہنی، اخلاقی اور روحانی استعدادیں عطا کی ہیں اور ان کی کامل نشوونما کے لئے جن چیزوں کی ضرورت ہے وہ بھی اس کرہ ارض پر مہیا کی ہیں۔ان جملہ استعدادوں کی کامل نشود نما کے یکساں مواقع میسر آنا ہر انسان کا حق ہے۔اگر ایک انسان کی بھی استعدادیں بغیر نشوونما کے رہتی ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا حق کسی اور انسان کے قبضہ و تصرف میں ہے۔وہ حق جس کسی کے بھی قبضہ و تصرف میں ہے وہ اس سے لے کر اس کو دینا چاہئے جو اصل مستحق ہے۔اس حق میں بھی اللہ تعالیٰ نے مردوں اور عورتوں میں کوئی فرق نہیں کیا ہے۔اسی طرح قرآن نے احکام دیتے وقت مردوں اور عورتوں میں کوئی فرق نہیں کیا ہے اسی لئے قرآن نے احکام دیتے وقت مردوں اور عورتوں کو یکساں مخاطب کیا ہے۔البتہ بعض احکام ایسے ہیں جو صرف عورتوں سے متعلق ہیں جیسے بچوں کو دودھ پلانا وغیرہ ان میں عورتوں کو ہی مخاطب کیا جا سکتا ہے۔ایسے چند احکام کے سوا باقی تمام احکام دیتے ہوئے مردوں اور عورتوں کو ایک ساتھ ہی قرآن نے مخاطب کیا ہے۔۔۔۔۔۔حضور نے موجودہ زمانہ کی جسے متمدن اور ترقی یافتہ زمانہ کہا جاتا ہے مساوات انسان کی زبر دست خلاف ورزی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔