حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 524
471 نتیجه آج دنیا میں بڑی اور چھوٹی قوموں کی تفریق نے بہت ناگوار صورت اختیار کر رکھی ہے۔۔۔انسانی اقوام ہونے کی حیثیت میں ان کے حقوق میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہئے لیکن ایسا نہیں ہے۔مثال کے طور پر اقوام متحدہ میں بڑی قوموں کے حقوق زیادہ ہیں اور چھوٹی قوموں کے کم۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اقوام متحدہ میں اصل طاقت بڑی قوموں کے ہاتھوں میں ہے اور چھوٹی قومیں بے بس ہیں حالانکہ انسانی مساوات کی سب کو یکساں درجہ ملنا چاہئے۔اس نا انصافی اور عدم مساوات کا ہے کہ تیسری عالمگیر جنگ کا خطرہ نوع انسانی کے سر پر منڈلا رہا ہے۔اس مکمل تباہی سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ پوری نوع انسانی متحد ہو کر اس خطرہ کو دور کرنے کی کوشش کرے اسے One God on Humanity یعنی ایک خدا اور ایک نوع انسانی) کے اصول پر متحدہ ہو جانا چاہئے۔۔۔۔اگر تیسری عالمگیر جنگ کی شکل میں سروں پر منڈلانے والی مکمل تباہی سے بچنا چاہتے ہو تو ایک ہی خاندان کے افراد کی طرح باہم مل کر زندگی گزارو۔سب کو یکساں درجہ دو اور سب کے یکساں حقوق تسلیم کرو۔۔۔جب اپنی اپنی مذہبی کتابیں پڑھیں تو انہیں سمجھنے کی کوشش کریں۔اس ضمن میں میں آپ صاحبان سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ قرآن ایک بہت عظیم کتاب ہے اگر اس کی تعلیم اور مدنی زندگی سے متعلق اس کے بیان کردہ اصولوں پر عمل کیا جائے تو عالمگیر جنگ کے خطرات میں گھری ہوئی یہ دنیا امن و آشتی کا گہوارہ بن سکتی ہے کیونکہ یہ عظیم کتاب سب کے حقوق کی حفاظت کرتی ہے ۳۹ اسی طرح ۱۹۸۰ء میں جرمنی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حضور نے فرمایا:۔میں تمام اقوام پر یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ان کی نجات قرآن