حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 522 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 522

469 کہ ایسا معاشرہ کیسے تشکیل پائے؟ سو ہم اسلامی تعلیم کو دنیا میں پھیلا کر ایسا معاشرہ پیدا کرنے کی مقدور بھر کوشش کر رہے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ ایک نہ ایک دن ہم اس میں ضرور کامیاب ہوں گے۔یہ سکالرز اس بات پر بھی بہت مشوش تھے کہ موجودہ دنیا اپنے لا نخیل مسائل کی وجہ سے ایک ہولناک تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے۔حضور نے انہیں مخاطب کر کے فرمایا کہ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بنی نوع انسان نے ایک دوسرے سے محبت کرنا چھوڑ دیا ہے۔اس لئے میں جہاں بھی جاتا ہوں لوگوں سے یہی کہتا ہوں کہ ایک دوسرے سے محبت کرنا سیکھو۔اس بات کو اپنی زندگی کا اصول بناؤ کہ نفرت کسی سے نہیں محبت سب کے لئے " اگر ایسا نہ ہو تو نوع انسانی جس عظیم خطرہ سے دوچار ہے وہ حقیقت میں تبدیل ہو کر رہے گا۔اس پر ایک صاحب نے دریافت کیا کہ قرآن کی رو سے انسانوں اور قوموں کے مابین محبت کیسے پنپ سکتی ہے ؟ حضور نے فرمایا محبت حسن اور احسان کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔اسلام میں حسن اور احسان دونوں موجود ہیں۔یہ امر بھی اس کے حسن اور احسان کا آئینہ دار ہے کہ اس نے ہر ایک کے حقوق کی حفاظت کا اہتمام کیا ہے۔انسانوں ہی کے حقوق کی حفاظت کا نہیں بلکہ حیوانات اور نباتات کے حقوق کی حفاظت کا بھی۔یہ محبت اسلام کو اپنانے اور اس پر عمل پیرا ہونے سے ہی پیدا ہو گی۔" اسی طرح کیلگری میں ایک خطاب کے دوران حضور نے فرمایا:۔دو قرآن جب دنیوی زندگی کا ذکر کرتا ہے تو وہ دراصل ان ذمہ داریوں کا ذکر کرتا ہے جو خدا اور اپنے ہم جنس بنی نوع کے بارہ میں ہم پر عائد ہوتی ہیں۔ان ہر دو قسم کی ذمہ داریوں کو ادا کئے بغیر ہم خدا میں ہو کر زندگی نہیں گزار سکتے۔اسلام بحیثیت انسان مسلمان اور غیر مسلم میں کوئی فرق نہیں کرتا۔وہ سب سے یکساں محبت کرنے کا درس دیتا ہے کیونکہ سب ایک جیسے ہی انسان ہیں اور ایک خدا کی مخلوق اور ایک ہی آدم کی اولاد ہیں۔وہ ان سے بھی محبت کا درس دیتا ہے جو خود اس کے منکر اور مخالف ہیں کیونکہ