حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 521
468 خود دیکھ لو گے۔مگر خدا غضب میں دھیما ہے، تو بہ کرو تا تم پر رحم کیا جائے۔جو خدا کو چھوڑتا ہے وہ ایک کیڑا ہے نہ کہ آدمی اور جو اس سے نہیں ڈرتا وہ مردہ ہے نہ کہ زندہ" ۳۳ ۱۹۸۰ء میں کینیڈا کے دورہ کے دوران کیلگری کے مقام پر حضور نے 9 ستمبر کو ماہرین علوم کے ایک وفد کو جس میں کیلگری یونیورسٹی کے بعض پروفیسر دیگر دانشور اور سکالرز شامل تھے شرف ملاقات بخشا اور انہیں قرآنی تعلیم کے بعض ایسے پہلوؤں سے روشناس کیا جن کا براہ راست موجودہ زمانے سے تعلق ہے۔اس وفد میں مندرجہ ذیل ماہرین شامل تھے۔۱ کیلگری یونیورسٹی کے ڈین آف ہو مینیٹیز۔ڈاکٹر پیٹر کریگی ۳۴ ۲ کیلگری یونیورسٹی کے مشرقی مذاہب کے پروفیسر ڈاکٹر میک کریڈی ۳۵ ۳۔کیلگری یونیورسٹی کے اسلامک سٹڈیز کے پروفیسر مسٹر رین ۳۶ ۴۔کیلگری یونیورسٹی میں شعبہ مکینیکل انجینئرنگ کے صدر ڈاکٹر منسا سنگھ مع مسن ڈاکٹر نمسا سنگھ (کینیڈین) ۵ کیلگری یونیورسٹی میں شعبہ کیمیکل انجینئر نگ کے صدر ڈاکٹر خالد عزیز ۶۔چیف جیالوجسٹ ے۔البرٹا ریسرچ سنٹر برو کس کے پلانٹ پتھالوجسٹ ڈاکٹر رون ہاورڈ ےس اس مجلس کے آخر میں ڈاکٹر پیٹر کریگی نے نہایت ادب کے ساتھ حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ حقوق انسانی سے متعلق آپ نے قرآنی تعلیم کی بہت موثر انداز میں وضاحت فرمائی ہے۔اس میں شک نہیں یہ تعلیم بہت عمدہ ہے اور اس سے دنیا کے بہت سے مسائل خاطر خواہ طریق پر حل ہو سکتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ مختلف ملکوں اور قوموں میں اسے عملی جامہ کیونکر اور کس طرح پہنایا جائے؟ حضور نے اس کے جواب میں فرمایا اس پر عمل تو اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ جب عمل کرنے کی نیت اور ارادہ ہو۔ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا از بس ضروری ہے کہ جس میں محبت و پیار کا دور دورہ ہو اور ایک دوسرے کی بے لوث خدمت کا جذبہ کار فرما ہو۔اب رہا یہ سوال