حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 495 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 495

442 جامہ پہنا اور ایک پر شوکت آواز فضا میں گونجی جو اس نور سے ہی بنی ہوئی تھی اور وہ یہ تھی بُشْرَى لَكُمْ" یہ ایک بڑی بشارت تھی لیکن اس کا ظاہر کرنا ضروری نہ تھا۔ہاں دل میں ایک خلش تھی اور خواہش تھی کہ جس نور کو میں نے زمین کو ڈھانپتے ہوئے دیکھا ہے جس نے ایک سرے سے دوسرے سرے تک زمین کو منور کر دیا ہے اس کی تعبیر بھی اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے مجھے سمجھائے۔چنانچہ وہ ہمارا خدا جو بڑا ہی فضل کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے اس نے خود اس کی تعبیر اس طرح سمجھائی کہ گزشتہ پیر کے دن میں ظہر کی نماز پڑھا رہا تھا اور تیسری رکعت کے قیام میں تھا تو مجھے ایسا معلوم ہوا کہ کسی غیبی طاقت نے مجھے اپنے تصرف میں لے لیا ہے اور اس وقت مجھے یہ تقسیم ہوئی کہ جو نور میں نے اس دن دیکھا تھا وہ قرآن کا نور ہے جو تعلیم القرآن اور عارضی وقف کی سکیم کے ماتحت دنیا میں پھیلایا جا رہا ہے۔اللہ تعالیٰ اس مہم میں برکت ڈالے اور انوار قرآن اسی طرح زمین پر محیط ہو جائیں گے جس طرح اس نور کو میں نے زمین پر محیط ہوتے دیکھا ہے فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ - اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بھی متعدد بار خود قرآن کو اور قرآنی وحی کو نور کے لفظ سے یاد کیا ہے اور مجھے بتایا گیا کہ وہ نور جو تمہیں دکھایا گیا یہی نور ہے۔پھر میں اس طرف بھی متوجہ ہوا کہ عارضی وقف کی تحریک جو قرآن کریم سیکھنے سکھانے کے متعلق جاری کی گئی ہے اس کا تعلق نظام وصیت کے ساتھ بہت گہرا ہے۔۔۔اس لئے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ تعلیم القرآن اور وقف عارضی کی تحریکوں کو موصی صاحبان کی تنظیم کے ساتھ ملحق کر دیا جائے اور یہ سارے کام ان کے سپرد کئے جائیں۔نچہ حضور نے مجالس موصیان بھی بنیادی طور پر اسی غرض کے لئے قائم فرمائیں تا کہ تعلیم القرآن کے کام میں تیزی پیدا ہو۔حضور نے مرکز میں فضل عمر تعلیم القرآن