حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 434 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 434

379 بیرونی ممالک میں جو نئے نئے احمدی ہو رہے ہیں ان کے لئے خدا تعالیٰ ایسے سامان پیدا کر رہا ہے کہ انہیں روحانی ترقی کے ساتھ ساتھ دینوی ترقی بھی حاصل ہو جاتی ہے تاکہ ان کے دل ہر طرح کی نعمتوں کے حصول کی وجہ سے خدا تعالیٰ کی حمد سے لبریز ہوں۔اس وقت میں یہ مثال دے رہا تھا۔کہ یہ الہام ۱۸۶۸ء میں ہوا تھا۔پھر قریباً سو سال تک یہ الہام پورا نہیں ہوا۔مومن کا دل تو یقین سے پر تھا اور وہ جانتا تھا کہ ہر ایک بشارت کے پورا ہونے کے لئے ایک وقت مقرر ہے۔جب وہ وقت آئے گا تو وہ بشارت بھی ضرور پوری ہو گی، دنیا کی کوئی طاقت اسے ٹال نہیں سکتی، لیکن اس کے برعکس جو دل کے اندھے تھے انہیں ٹھٹھے اور ہنسی کا موقع ملتا رہا۔نبی کریم میل اللہ کے زمانہ میں اور مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں بڑا فرق ہے وہ یہ کہ آنحضرت ملی ی ل وی کے زمانہ میں اسلام کی بعض بڑی فتوحات حضور کی ذات سے تعلق رکھتی تھیں اور آپ کی زندگی میں مقدر تھیں لیکن ہماری فتوحات کا زمانہ ، جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریروں سے پتہ چلتا ہے ، تین سو سال تک ممتد ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری نسلوں نے یکے بعد دیگرے خدا تعالیٰ اس کے رسول اور اسلام کے لئے قربانیاں دینی ہیں اور ہر نسل نے اللہ تعالیٰ کی بعض بشارتوں کو پورا ہوتے دیکھنا ہے۔بهرجال الہی جماعتوں کے دلوں میں شیطان وسوسے پیدا کرنے کی وشش تو کرتا ہے لیکن منافقوں کے سوا اوروں کے دلوں میں وسوسے برا کرنے کی اہلیت اور قابلیت نہیں رکھتا۔اس کو مومنوں پر جیسا کہ قرآن کریم نے فرمایا ہے کوئی غلبہ اور کوئی سلطان عطا نہیں کیا جاتا۔نہیں جو بشارتیں ایسے سلسلوں کو دی جاتی ہیں جنہوں نے آخری اور عظیم فتح سے پہلے کئی منزلیں طے کرنا ہوتی ہیں وہ بشارتیں درجہ بدرجہ