حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 313 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 313

298 باہر خدام آپ کو لینے آگئے ہیں" باہر گیا۔۔۔۔کہا صاحبزادہ صاحب نے فرمایا ہے کہ ”آپ فوراً مسجد اقصیٰ میں پہنچ جائیں" عرض کیا اس وقت میرے سر میں قدرے درد ہے۔میں صبح حضرت میاں صاحب کی خدمت میں حاضر ہو جاؤں گا" بولے حضرت میاں صاحب نے یہ بھی فرمایا تھا کہ et اگر شاعر کچھ نخرے وغیرہ کرے تو اسے اٹھا کر لے آئیں۔اللہ اللہ چند ہی گھنٹوں میں زمین و آسمان کیسے تبدیل ہو گئے تھے۔اجلاس سے قبل جسے مسجد کے صحن سے اٹھا کر باہر پھینک دینے کی نوید سنائی گئی تھی اب اپنے اس نیاز کیش کو اس اپنائیت ، بے ساختہ محبانہ تمکنت اور اعتماد آفریں اشتیاق سے یاد فرمایا گیا تھا۔جس وقت ہم نے مسجد میں قدم رکھا۔خدام کا تقریری مقابلہ کا اجلاس شروع تھا اور حضرت صاحبزادہ صاحب کرسی صدارت پر متمکن تھے۔۔۔۔اعلان کیا۔۔۔اس تقریر کے بعد ثاقب زیروی صاحب نظم پڑھیں گے۔اور پھر جو دوسری تقریر کے بعد نظم پڑھوانے کا سلسلہ شروع ہوا تو رات گئے تک جاری رہا۔۔۔۔۔اسی سال سے جلسہ سالانہ پر کلام ثاقب ایک مستقل فیچر بن گیا۔“س مکرم چوہدری ظہور احمد صاحب باجوہ اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔” غالبا ۱۹۴۴ء کا ذکر ہے میں نئی دہلی میں ملازم تھا اور خدام الاحمدیہ کی مجلس عاملہ کا ممبر۔آپ کی بیگم سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ بیمار ہوئیں۔آپ ان کو لے کر بغرض علاج وہلی تشریف لے گئے اور نئی دہلی میں انڈین لیجسلیٹو اسمبلی کے ممبران کے رہائشی کوارٹرز میں قیام فرما ہوئے۔کبھی کبھی خدام الاحمدیہ کی مجلس عاملہ کو یاد فرما لیا کرتے۔بچپن کے دھندلے نقوش ان ملاقاتوں میں کچھ روشن ہونے لگے۔صاحبزادہ صاحب اپنی خاندانی وجاہت کے لحاظ سے ایک بلند مقام پر تھے، میں دیہاتی گنوار۔مگر میں نے محسوس کیا کہ بظاہر اس معاشرتی بعد المشرقین