حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 314 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 314

299 کے باوجود ہمارے درمیان فاصلہ کم تھا عام لوگوں کے ساتھ ملنا جلنا اٹھنا بیٹھنا ان کو پسند تھا اور طبقاتی فرق بالکل ناپید۔" J Lee صدارت مجلس خدام الاحمدیہ سے سبکدوشی پندرہ سال کے طویل عرصہ تک مجلس خدام الاحمدیہ کی کامیاب قیادت کے بعد ۱۹۵۴ء میں خلیفہ وقت سیدنا حضرت مصلح موعود نے آپ کو خدام الاحمدیہ کی قیادت سے سبکدوش کر کے انصار اللہ کا صدر مقرر فرما دیا۔اس موقعہ پر حضرت مصلح موعود نے فرمایا:۔”سب سے پہلے تو میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ۳۱ اکتوبر ۱۹۵۴ء کے بعد جو عمال شروع ہوتا ہے اس میں مرزا ناصر احمد صاحب مجلس خدام الاحمدیہ کے نائب صدر نہیں رہیں گے کیونکہ ان کی عمر زیادہ ہو چکی ہے اور وہ مجلس خدام الاحمدیہ کے ممبر نہیں رہے۔میں نے انہیں دو سال کے لئے نائب صدر مقرر کیا تھا تاکہ ان کے تجربہ سے فائدہ اٹھایا جائے میں نے بتایا ہے کہ ناصر احمد اب انصار اللہ میں چلے گئے ہیں۔ان کے متعلق میں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ آئندہ انصار اللہ کے ر ہوں گے۔اگرچہ میرا یہ حکم ڈکٹیٹر شپ" کی طرز کا ہے لیکن اس ڈکٹیٹر شپ" کی وجہ وجہ سے ہی تمہارا کام اس حد تک پہنچا پس ناصر احمد کو میں انصار اللہ کا صدر مقرر کرتا ہوں۔وہ صدر ہے۔فوراً انصار اللہ کا اجلاس طلب کریں اور عہدیداروں کا انتخاب کر کے میرے سامنے پیش کریں۔۔۔اور پھر میرا مشورہ لے کر انہیں از سر نو منظم کریں۔پھر خدام الاحمدیہ کے سالانہ اجتماع کی طرح انصار اللہ کا بھی سالانہ اجتماع کیا کریں لیکن ان کا انتظام اور قسم کا ہو گا۔اس اجتماع میں کھیلوں پر زیادہ زور دیا جاتا ہے ، کبڈی اور دوسرے کھیل ہوتے ہیں۔انصار اللہ کے اجتماع میں درس القرآن کی طرف زیادہ توجہ دی جائے