حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 312 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 312

297 و بعض لوگ اشعار ایسی بھونڈی لے میں اور ایسے غلط تلفظ کے ساتھ پڑھ دیتے ہیں کہ مقرر کی طبیعت منغض ہو جاتی ہے اور حضور تو اس معاملہ میں از حد حساس ہیں اچھا نظم تو میں پروگرام میں شامل کیے لیتا ہوں مگر ایک شرط ہے۔۔۔وہ جو مسجد کی سیڑھیاں ہیں آپ جس وقت نظم پڑھیں میں ان کی دائیں برجی کے پاس کھڑا ہوں گا نظم پڑھتے وقت میری طرف بھی دیکھتے رہیں۔اگر نظم کے دوران میں ہاتھ ہلا کر آپ کو رکنے کا اشارہ کروں تو آپ فوراً نظم پڑھنا بند کر دیں" کیا آپ کو یہ شرط بھی منظور ہے؟ عرض کیا به دل و جان منظور ہے۔۔۔۔تلاوت۔۔۔۔کے بعد حضور نے اس عاجز کا نام پکارا۔۔۔۔نظم پڑھنی شروع کر دی۔۔۔۔۔۔تو اس نے جاری کیا خمخانہ تحریک جدید سے بڑھ کر تجھے توفیق خدا دے ساقی پڑھتے وقت میں نے سیڑھیوں کی طرف دیکھا حضرت صاجزادہ مرزا ناصر احمد صاحب شمالی برجی کے پاس کھڑے تھے۔۔۔۔۔۔تجھ کو مولا نے کیا عطر رضا میک گلشن عالم میں بسا ممسوح دے ساقی حضور نے فرمایا اس شعر کو دوبارہ پڑھیں۔محفل میں سبحان اللہ اور جزاکم اللہ کی گونج قدرے بلند ہو گئی اور حضرت میاں صاحب برجی کے پاس سے ہٹ گئے۔۔۔۔جلسہ ختم ہونے کے بعد شرکاء اجلاس نے جس ذوق و شوق سے اس عاجز کی بلائیں لیں اور مصافحے اور معانقے کئے وہ سر تا سر گواہی تھے اس بین حقیقت کے کہ۔نگاه مرد مومن سے بدل جاتی ہے تقدیریں اس غیر متوقع اور غیر معمولی تحسین و آفرین میں اختتام جلسہ پر حضرت میاں صاحب کا شکریہ ادا کرنا بھی بھول گیا۔۔۔۔گھر پہنچے کھانا کھایا۔نماز عشاء پڑھی اور لیٹنے کی تیاری کر رہے تھے کہ دروازے پر دستک ہوئی۔۔۔۔