حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 262
247 جو باپ بیٹے کے درمیان ہوتا ہے جماعتی کام تفویض کرنے میں آپ کو اولیت دیتے تھے اور بڑی بے تکلفی سے باپ بیٹا تبادلہ خیال کرتے تھے جیسا کہ حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبه لکھتی ہیں۔" حضرت مصلح موعود کو حضرت مرزا ناصر احمد سے بہت گہری محبت تھی۔جیسا کہ دستور ہے بڑے بیٹے سے ذرا تکلف ہوتا ہے میں نے کبھی بے تکلفی سے دونوں کو بات کرتے نہیں دیکھا لیکن جماعتی کام ہوتے تھے اس وقت سب سے پہلے ان کو ہی بلا کر کاموں کی ہدایت دینی کام سپرد کرنے، پورا اعتماد تھا ان پر۔لیکن آخری بیماری میں اس محبت کا جو حضرت مصلح موعود کو اپنے سب سے بڑے بیٹے سے سے بڑے بیٹے سے تھی کھل کر اظہار ہوا۔de خلافت سے محبت کرنے والوں کے لئے آپ کا نمونہ ہمیشہ مشعل راہ کا کام دیتا رہے گا اور آنے والی نسلیں آپ کے نمونے سے رہنمائی حاصل کرتی رہیں گی۔اب نہایت اختصار کے ساتھ آپ کی ان خدمات کا خاکہ پیش کیا جاتا ہے جن کا تعلق ذیلی تنظیموں مجالس خدام الاحمدیہ و انصار اللہ اور صدر انجمن احمدیہ کے مختلف شعبوں ہے ہے۔آپ ۱۹۳۹ء سے ۱۹۴۹ء تک دس سال مجالس خدام الاحمدیہ کی صدارت پر فائز رہے۔۱۹۴۹ء میں حضرت مصلح موعود بھی اللہ نے بعض حالات کے پیش نظر مجلس خدام الاحمدیہ کی صدارت اپنے ہاتھ میں رکھی اور حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کو نائب صدر اول مقرر فرمایا۔اس عہدہ پر آپ نے قریباً پانچ سال خدمات سرانجام دیں۔اس کے بعد ۱۹۵۴ء میں آپ مجلس انصار اللہ کی صدارت کے عہدہ پر فائز ہوئے اور مسلسل چودہ سال تک صدر مجلس انصار اللہ کی حیثیت سے جماعت کی قیادت فرمائی۔صدر انجمن احمدیہ میں آپ کو ناظر خدمت درویشاں قادیان اور صدر کے طور پر خدمات کی توفیق ملی۔دس سال تک آپ صدر انجمن احمدیہ کے صدر رہے اور حضرت خلیفہ اول اور حضرت خلیفہ ثانی کی طرح اپنی خلافت کے انتخاب کے وقت آپ