حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 135
120 مسند خلافت پر متمکن ہوئے تو جماعت کی مساعی ACTIVITIES میں سے کوئی ایسی شاخ نہ تھی جس کے بارے میں آپ کو معلومات حاصل نہ ہوں۔خلافت سے قبل کے ربع صدی سے زائد عرصہ میں پھیلی ہوئی سیرت و سوانح کو احاطہ تحریر میں لانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے تاہم دو ابواب میں نہایت اختصار کے ساتھ اس پر روشنی ڈالی جا رہی ہے۔باب سوم میں آپ کی سوانح و سیرت کے ان پہلوؤں کو لیا جا رہا ہے جن کا تعلق آپ کے ساتھ پرنسپل جامعہ احمدیہ و تعلیم الاسلام کالج ہونے سے ہے۔باب چہارم میں آپ کی سیرت و سوانح کا وہ حصہ شامل کیا جا رہا ہے جو آپ نے بطور صدر مجلس خدام الاحمدیہ ، صدر مجلس انصار الله ، صدر صدر انجمن احمدیہ ، ڈائریکٹر تحریک جدید انجمن احمدیہ، افسر جلسہ سالانہ اور ڈائریکٹر ادارۃ المصنفین اور ممبر نگران بورڈ کے طور پر گزارا اور آپ نے خود یا دیکھنے والوں نے دیکھ کر بیان کیا۔جامعہ احمدیہ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ۹ نومبر ۱۹۳۸ء کو انگلستان سے وطن واپس تشریف لائے۔ابھی آپ کو آئے ہوئے تقریباً دو ہفتے گزرے ہوں گے کہ حضرت مصلح موعود خلیفة المسیح الثانی میں اللہ نے آپ کو ۲۷ نومبر ۱۹۳۸ء کو جامعہ احمدیہ قادیان میں بطور استاد مقرر فرما دیا۔تقریباً نصف سال آپ نے جامعہ احمدیہ میں بطور استاد کام کیا۔اس وقت جامعہ کے پرنسپل حضرت مولوی محمد سرور شاہ صاحب (صحابی حضرت موعود) تھے۔ان کے ریٹائر ہونے پر جون ۱۹۳۹ ء میں آپ کو مصلح موعود نے جامعہ رحیم احمد یہ قادیان کا پرنسپل مقرر فرما دیا۔آپ اپریل ۱۹۴۴ء تک اس عہدہ پر فائز رہے۔آپ نے خود اس امر کا ذکر کرتے ہوئے ایک مرتبہ فرمایا۔وو جب میں نے قرآن کریم حفظ کیا اور مولوی فاضل کیا تو میں نے انگریزی تعلیم شروع کر دی پھر گورنمنٹ کالج لاہور میں تعلیم کی پھر آکسفورڈ چلا گیا۔جب واپس آیا تو حضرت صاحب " (المصلح موعود) کو مسیح