حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 136
121 خیال تھا کہ شاید میں عربی بھول گیا ہوں، دینی تعلیم بھول گیا ہوں گا، مجھے جامعہ احمدیہ میں استاد لگا دیا۔میں نے از سر نو تیاری کی، پڑھا اور پڑھایا اور ۱۹۳۸ء کے آخر سے لے کر ۱۹۴۴ء تک جامعہ احمدیہ میں ایک استاد کی حیثیت سے پھر پرنسپل کی حیثیت سے میں نے کام کیا۔" اس دوران آپ کو حضرت مصلح موعود بھی اللہ نے چھ ماہ کے لئے ہائی سکول کا ہیڈ ماسٹر بھی بنا دیا تاکہ آپ کو انتظامی امور کا اچھی طرح تجربہ ہو جائے اور آپ کی قائدانہ صلاحیتیں اجاگر ہوں۔اس دور کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے ایک نہایت دلچسپ حکمت عملی کا ذکر کیا کہ کس طرح آپ کے ذہن میں تعلیم و تربیت کے بارے میں نئی نئی سکیمیں آتی تھیں۔چنانچہ آپ نے فرمایا۔رم ایک دفعہ حضرت مصلح موعود نے قادیان میں مجھے چھ مہینے کے لئے سکول کا ہیڈ ماسٹر بنا دیا۔میں نے بڑا غور کیا۔اس میں حکمت کیا ہے۔دو چار باتیں میرے ذہن میں آئیں۔میں نے اپنی طرف سے ان کی اصلاح کرنے کی پوری کوشش کی۔ان دنوں مجھے بتایا گیا تھا کہ ہائی سکول کے بعض طلباء عشاء کے بعد ادھر ادھر پھرتے اور گئیں ہانکتے رہتے ہیں اور اس طرح اپنا وقت ضائع کرتے ہیں۔مجھے خیال آیا کہ کیوں نہ میں ان کو عصر اور مغرب کے درمیان دوڑا دوڑا کر اتنا تھکا دوں کہ وہ عشاء کے بعد گھر سے باہر نکل ہی نہ سکیں۔چنانچہ میں ان تمام لڑکوں کو جو فٹ بال اور ہاکی نہیں کھیلتے تھے۔ان سب کو ہائی سکول کے میدان میں روزانہ اکٹھا کرتا تھا اور پھر ان کو خوب دوڑ لگواتا تھا اور ان کو اتنا تھکا دیتا تھا کہ پھر وہ عشاء کے بعد گھر سے باہر نہیں نکل سکتے تھے یہ ایک الجھن تھی جسے ہم نے اس طرح دور کر دیا۔" تدریس کا حکیمانہ طریق جامعہ میں تدریس کے دوران آپ نے بعض مشکل مضامین کو کچھ اس رنگ میں