حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 134
119 ہی رض سے ہی ہو گیا تھا جو ہر سال جاری رہا۔۱۹۵۳ء کے مارشل لاء میں سنت یوسفی کے تحت آپ کو قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں۔خدام الاحمدیہ میں پندرہ سال تک غیر معمولی خدمات بجالاتے رہے۔حتی کہ حضرت مصلح موعود نے ۱۹۵۴ء میں آپ کو مجلس انصار اللہ کا صدر بنا دیا۔۱۹۵۴ء کے بعد کا دور آپ کی ذمہ داریوں میں غیر معمولی اضافے کا دور ثابت ہوا کیونکہ ۱۹۵۵ء میں آپ صدر انجمن احمدیہ کے صدر ہوئے اور دس سال تک اس عہدہ پر فائز رہے۔صدر انجمن احمدیہ میں آپ ناظر خدمت درویشاں بھی رہے۔تحریک جدید انجمن احمدیہ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں آپ تھے۔۱۹۵۹ء میں آپ افسر جلسہ سالانہ بن گئے اس طرح بیک وقت پر نسپل کالج ، صدر مجلس انصار الله ، صدر صدر انجمن احمدیہ ، ڈائریکٹر تحریک جدید انجمن احمدیہ اور افسر جلسہ سالانہ کے فرائض آپ کو سونپ دئے گئے اور حضرت مصلح موعود کی لمبی بیماری کے دوران ۱۹۶۱ء میں جو نگران بورڈ بنایا گیا اس کے بھی آپ ممبر تھے۔اس کے علاوہ حضرت مصلح موعود کی براہ راست نگرانی میں آپ کے ذمہ ہنگامی نوعیت کے کام بھی آتے تھے جنہیں آپ نے نہایت خوش اسلوبی، ہمت۔محنت اور دعاؤں سے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔بیک وقت جماعت کی بے شمار ذمہ داریوں کے دوران آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا بڑے ہی پیار کا سلوک رہا اور وہ آپ کی روح القدس سے مدد اور رہنمائی فرماتا رہا چنانچہ خلافت کے زمانہ میں آپ نے ایک مرتبہ بیان فرمایا کہ جب جماعت کے مختلف نوع کے کاموں میں پھنسے ہونے کے باعث آپ کالج میں اپنی کلاس کو پورا وقت نہ دے سکتے تھے تو بارہا ایسا ہوا کہ رویا میں یونیورسٹی کا امتحانی پرچہ آپ کو دکھا دیا جاتا اور آپ کلاس کو بتائے بغیر اس پرچہ کچھ لیکچر تیار کر کے کلاس کو دے کے سوالوں پر حمل دیتے اور کلاس اللہ تعالٰی کے فضل سے نمایاں نمبر لے کر اس مضمون میں کامیاب ہو جاتی۔خلافت سے پہلے عملی طور پر آپ کو جماعت کے ہر شعبہ کے ساتھ وابستہ رہ کر اسے قریب سے دیکھنے کا موقع ملا اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی تقدیر خاص کے مطابق جب آپ