ہجرت سے وصال تک

by Other Authors

Page 97 of 142

ہجرت سے وصال تک — Page 97

96 رات کو اللہ کے فضل سے بارش بھی ہو گئی اور سارا میدان ترینیز ہو گیا۔۔یہ بھی معجزہ تھا آپ نے بتایا تھا کہ بندوں سے پیار کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ایسے معجزے دکھاتا ہے جن سے بندوں کا اللہ تعالیٰ سے پیار بڑھتا ہے۔ماں۔ہمارے پیارے آقا کی زندگی تو ہر لمحہ معجزے ہی معجزے تھے یہ وہ پیار بھرے واقعات ہیں جن میں دوسرے اصحاب کو بھی شریک کیا گیا۔بات ہو رہی تھی چشمے کے قریب پڑاؤ کی۔وہاں ایک شخص بدیل بن ورقا کا گذر ہوا تو آپ نے اُسے بتایا کہ ہم میرا من طواف کے لئے آئے ہیں اور کیا ہی اچھا ہو اگر مکہ والے جنگ کا رستہ چھوڑ کر امن کا طریق اختیار کریں۔بدیل کو یہ باتیں پسند آئیں جاکہ مکہ والوں کو بنائیں مگر وہ تو کچھ ماننے کو تیار ہی نہ تھے۔آخر ایک شخص عروہ بن مسعود مکہ والوں کی طرف سے بات کرنے کے لئے آیا اور آپ کے امن کے منصوبے سے متاثر ہوا مگر زیادہ متاثرہ اُس کو صحابہ کرام کی آپ سے محبت نے کیا۔اُس کا بیان ہے۔اگر پانی پیتے ہوئے آپ کے منہ سے کوئی قطرہ گرتا تو صحابہ کرام اسے شوق سے اپنے ہاتھوں پر مل لیتے اور جب آپ کسی چیز کا ارشاد فرماتے تو لوگ آپ کی آواز پر اس طرح لپکتے کہ گویا ایک مقابلہ ہو جاتا تھا اور جب آپ وضو کرتے تو صحابہ کرام اس شوق سے آپ کو دھو کر وانے کے لئے آگے بڑھتے کہ گویا اس خدمت کے لئے ایک دوسرے سے لڑ پڑیں گے اور جب آپ گفتگو فرماتے تو صحابہ بالکل خاموش ہو کر بیٹھے جاتے اور محبت اور رعب کی وجہ سے اُن کی نظریں