ہجرت سے وصال تک — Page 96
94 فرمایا۔( ابن سعد، ابن ہشام) مدینہ سے چھ میل کے سفر کے بعد ذو الحلیفہ کے مقام پر حج کا مخصوص لباس احرام باندھ لیا۔احتیاطا ایک خبر یاں شیر بن سفیان کو مکہ والوں کے ارادوں کی خبر لینے کے لئے بھجوایا جس نے آکر اطلاع دی کہ مکہ والے سخت غصے میں ہیں اور آپ کو روکنے کا پکا ارادہ ہے (بخاری کتاب المغازی) بلکہ ایک دستہ جس میں خالد بن ولید اور عکرمہ بن ابو جہل شامل ہیں مسلمانوں کے قریب پہنچ چکا ہے۔آپ نے مکہ کا اصل راستہ چھوڑا سمندر کی طرف سے نسبتاً مشکل مگر محفوظ راستے سے سفر جاری رکھا۔جب مکہ سے کومیل کے فاصلے پر حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو آپ کی اونٹنی " القصوا پاؤں پھیلا کو زمین پر بیٹھ گئی۔اُسے خدائی اشارہ سمجھ کہ آپ نے وہیں ڈیرے ڈال دیئے۔وہاں ایک چشمہ تھا جو سب کے پانی استعمال کرنے سے خشک ہو گیا۔صحابہ کرام آپ کی خدمت میں گئے اور اپنی تکلیف کا ذکر کیا۔آپ نے ایک تیر دیا اور فرمایا کہ خشک ہونے والے چشمے کی تہ میں گاڑ دیا جائے۔آپ خود چشمے کے کنارے پر تشریف لائے تھوڑا سا پانی لے کر اپنے منہ میں ڈالا اور پھر دُعا کرتے ہوئے اپنے منہ سے چشمے میں انڈیل دیا اور صحابہ کرام سے فرمایا کہ تھوڑی دیم انتظار کرو۔ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ چشمہ کے اندر اتنا پانی بھر آیا کہ سب نے اپنی ضرورت کے مطابق استعمال کیا اور پانی کی مشکل جاتی رہی۔دبخاری کتاب المغازی باب غزوه الحمد لله عن بر ابن عازب )