ہجرت سے وصال تک — Page 98
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اٹھ نہیں سکتی تھیں انجاری کتاب الشروط) بچہ۔امی میں سوچ رہا ہوں کہ عروہ بہت بہادر شخص ہو گا ورنہ شدید دشمنوں کے سامنے پیارے آقا کی تعریف کرنے کی جرات نہ کرتا۔ماں۔عروہ ہی نہیں پھر ایک شخص حلیس بن علقمہ آیا اور اس نے بھی جا کر قریش مکہ کو اچھی رپورٹ دی مگر وہ تو جوش میں بھڑکے ہوئے تھے حتی کہ آپ کی طرف سے ہمدردی اور دانائی سے سمجھانے کے لئے ایک صحابی خراش شین امیہ کو بھیجا گیا تو ان کی اونٹنی زخمی کر دی وہ تو ان کو بھی مار دیتے کچھ بڑے بوڑھوں نے سمجھا کہ باز رکھا۔قریش نے ایک اور چال چلی۔یہ تو ہو ہی رہا تھا کہ ادھر اُدھر سے نمائندے آجا رہے تھے کفار نے ایک پارٹی اسی آڑ میں بھیجی کے اب تو سارے دشمن مکہ کے پاس آئے ہوئے ہیں کسی طرح حملہ کر کے مسلمانوں کو نقصان پہنچاؤ اور ہو سکے تو آنحضور کو قتل کر دو۔(طبری و ابن هشام) مگر یہ سب گرفتار کر لئے گئے اور اس طرح اللہ پاک نے خاص فضل سے حفاظت کا سامان فرمایا بچہ۔پھر تو وہ سلسلہ بھی جاری نہ رہا ہو گا جو امن کے ساتھ عمرہ ادا کرنے کے لئے سمجھانے کا ہو رہا تھا۔ماں۔اُس کے لئے ایک اور کوشش ہوئی۔اس دفعہ حضرت عثمان کو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے ایک تحریر دے کر بھیجا جس میں آپ نے اپنے آنے کی غرض بیان کی اور فریش کو یقین دلایا کہ ہماری نیت صرف ایک عبادت بجا لانا ہے ہم یہ اسن صورت میں عمرے کے بعد