ہجرت سے وصال تک — Page 47
سے باہر نکل کر کھلے میدان میں مقابلہ کیا جائے۔اتنا جوش و جذبہ دیکھ کر آپ نے ان کی بات مان لی اور جمعہ کی نماز کے بعد مسلمانوں میں عام تحریک کی کہ ثواب حاصل کرنے کے لئے اس غزوہ میں شریک ہوں پھر آپ اپنے گھر تشریف لے گئے جہاں حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کی مدد سے آپ نے عمامہ باندھا اور لباس پہنا اور پھر دوسری زرہ اور خود پہنی اور مہتھیار لگائے ہوئے باہر تشریف لائے لیکن اس دوران بعض بزرگوں نے سمجھایا کہ ہمیں رسول اللہ کی رائے کے بعد اپنی رائے پر اصرار نہیں کرنا چاہیئے تھا۔اس کا اظہار ندامت کے ساتھ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بھی کیا گیا۔آپ نے فرمایا " خدا کے نبی کی شان سے بعید ہے کہ وہ ہتھیار لگا کر پھر اُسے اتار دے قبل اس کے کہ خدا کوئی فیصلہ کرے۔“ بخاری کتاب الاعتصام بالکتاب باب امرهم شوری) بچہ۔اُس وقت اُن کا کوئی جھنڈا بھی تھا۔مال۔آپ نے تین جھنڈے تیار کہ دائے۔قبیلہ اوس کا جھنڈا حضرت سید بین الحضیر کے سپرد کیا گیا۔قبیلہ خزرج کا جھنڈا حضرت جاب بن منذر کے۔۔۔۔ہاتھ میں دیا گیا۔مہاجرین کا جھنڈا حضرت علی کو دیا گیا۔آپؐ کا یہ دستور تھا کہ آپ لازماً اپنے بعد مدینے میں امیر مقرر فرما کہ جاتے اس دفعہ حضرت عبد الله بن ام کلثوم کو امیر مقر فرمایا اور نماز عصر کے بعد مدینہ سے باہر تشریف لائے۔احمد کا پہاڑ مدینہ سے شمال کی طرف