ہجرت سے وصال تک — Page 46
ایک خواب بھی سنایا۔بچہ۔مجھے بھی آپ کا خواب سنائیے۔ماں۔آپ نے فرمایا۔آج رات میں نے خواب میں ایک گائے دیکھی ہے اور نیز میں نے دیکھا کہ میری تلوار کا سر ٹوٹ گیا ہے۔اور پھر میں نے دیکھا کہ وہ گائے ذبح کی جارہی ہے۔اور میں نے دیکھا کہ میں نے اپنا ہاتھ ایک محفوظ اور مضبوط زرہ کے اندر ڈالا ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ ایک مینڈھا ہے جس کی پیٹھ پر میں سوار ہوں۔اس کی تعبیر آپ نے یوں بیان فرمائی ہے کہ گائے کے ذبح ہونے سے تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ میرے صحابہ میں سے بعض کا شہید ہونا مراد ہے اور میری تلوار کے کنارے کے ٹوٹنے سے میرے عزیزوں میں سے کسی کی شہادت کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے یا خود مجھے اس مہم میں کوئی تکلیف پہنچے گی اور زرہ کے اندر ہاتھ ڈالنے سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس حملے کے مقابلہ کے لئے ہما را مدینہ کے اندر ٹھہرنا زیادہ مناسب ہے اور مینڈھے سے آپ نے شکر کفار کا سردار یعنی علم بردار مراد لیا جوانت و اللہ مسلمانوں کے ہاتھوں مارا جائے گا۔( تهرقانی و ابن سعد) بچہ۔اس خواب سے تو یہی لگتا ہے کہ مدینے میں ٹھہر کہ مقابلہ کیا ہوگا۔ماں ، خواب کی تعبیر یہی تھی اور بڑے بڑے صحابہ نے بھی یہی مشورہ دیا تھا مگر وہ صحابہ جو جنگ بدر میں شریک نہیں ہوئے تھے اور وہ نوجوان جو جذبہ جہاد سے بے تاب ہو رہے تھے بے حد اصرار کرنے لگے کہ مدینہ