ہجرت سے وصال تک — Page 45
۴۵ رکھی تھی تاکہ وہ حالات پر نظر رکھیں حضرت عباس کو علم ہوا کہ قریش مکہ نے تجارتی قافلوں سے کہا یا ہوا سرمایہ جو پچاس ہزار دینار کے مطابق تھا نکالا ہے اور اس سے زور شور سے جنگ کی تیاریاں شروع کر دی ہیں تو حضرت عباس نے قبیلہ بنو غفار کے ایک تیز رفتار سوار کو بڑے انعام کا وعدہ دے کہ ایک خط آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچانے کے لیے بھیجا جب یہ قاصد مدینہ پہنچا۔آپ قباء میں تشریف فرما تھے وہیں یہ خط ملا۔کھول کر دیکھا تو علم ہوا کہ قریش مکہ بہت بڑاش کر لے کہ مدینہ پر حملہ کرنے والے ہیں۔بچہ۔مدینے میں بھی جنگ کی تیاریاں شروع ہو گئیں ؟ ماں۔جی ہاں ! سب سے پہلے تو مدینے میں مسلمانوں کی مردم شماری کرائی گئی جس سے پتہ چلا کہ کل مسلمانوں کی تعداد پندرہ سو ہے جبکہ کفار کے لشکر میں تین ہزار بہادر جوان شامل تھے جن کا تعلق صرف مکہ سے نہیں تھا بلکہ ارد گرد کے قبائل سے بھی فوجی جمع کئے۔ان تین ہزارہیں سات سو زرہ پوش تھے ، دو سو گھوڑے اور تین ہزار اونٹ تھے۔وہ اپنی بعض خواتین کو بھی ساتھ لائے تھے جو جنگ پر اُکسانے کے لئے گانے بجانے کا سامان ساتھ لائی تھیں۔یہ شکر دس گیارہ دن سفر کر کے مدینے کے پاس تین میل کے فاصلے پر اُحد پہاڑی کے پاس ٹھہر گیا اور ایک سر سبز چراگاہ عریض کو تباہ کر دیا۔عریض پر حملے نے اُن کے خونی ارادوں کو بالکل ظاہر کہ دیا۔آپ نے جمعہ کے دن صبح ہی صبح مسلمانوں کو جمع کر کے مشورہ چاہا اور اپنا