ہجرت سے وصال تک

by Other Authors

Page 38 of 142

ہجرت سے وصال تک — Page 38

۳۸ اخراجات اور مہر کی رقم ادا کی اور جہیز میں اس شاہزادی کو ایک چادر ایک چھڑے کا گریلا جس کے اندر کھجور کے خشک پتے بھرے ہوئے تھے اور ایک مشکیزہ دیار نسائی بحوالہ تلخيص الصحاح كتاب النكاح ) جب رخصتی ہو گئی تو آپ اپنی بیٹی کے گھر تشریف لے گئے اور دعا کی: اے میرے اللہ تو ان دونوں کے باہمی تعلقات میں برکت دے اور ان کے ان تعلقات میں برکت دے جو دوسروں کے ساتھ قائم ہوں اور ان کی نسل میں برکت دے۔(اصابہ ( اللہ پاک نے آپ کی دُعا۔سنی۔اور حضرت فاطمہ کی نسل سے آپ کی نسل قائم ہوئی۔مسلمانوں میں جو سید کہلاتے ہیں انہیں کی نسل سے ہیں۔۔بچہ۔آپ کو حضرت فاطمہ سے بہت محبت تھی پھر شادی انتنی سادگی سے کیوں ہوئی۔ماں۔محبت کا تو یہ عالم تھا کہ جب حضرت فاطر یہ آپ کے پاس آتیں تو آپ بیٹی کے پیارے اور عزت کی خاطر کھڑے ہو جاتے۔ان کا ہاتھ پکڑ کر چومتے اور اپنے پاس بٹھاتے جب آپ سفر پر جاتے تو سب سے آخر میں اُن سے ملنے تاکہ جدائی کا وقت کم سے کم ہو۔اب رہی سادگی سے رخصت کرنے کی بات تو بچے جو حضرت فاطریہ کے والد تھے وہ اس دنیا میں تشریف ہی اس لئے لائے تھے کہ دنیا کی محبت کم کر کے اللہ تعالیٰ کی محبت دلوں میں قائم فرمائیں۔دنیا دی ساز و سامان کی، آپ کے نزدیک اہمیت نہ تھی نہ وہ یہ چاہتے تھے کہ حضرت فاطمہ کے دل