ہجرت سے وصال تک — Page 39
۳۹ میں اُن کی اہمیت ہو۔آپ نے انکی ایسی تربیت فرمائی تھی کہ بڑائی چھڑائی کا تصور بھی نہیں تھا بلکہ ایک دقعہ ایک چور عورت کے ہاتھ کاٹنے کی سترا پر جب اُس کی سفارش آئی تو آپ نے فرمایا یہ اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں ہاتھ کاٹنے میں اس کی رعایت نہ کرتا۔“ نہ۔“ بیچہ۔اب مجھے خیال آرہا ہے کہ مکہ والے اپنے سرداروں کے مارے جانے کے بعد کم ہمت ہو کہ بیٹھ گئے ہوں گے۔ماں۔نہیں بچے ابھی ابو سفیان باقی تھا۔اُس نے نجد کے وسطی علاقے کے دو قبیلوں بنو سلیم اور بنو غطفان کو ان بھیڑ کا یا کہ وہ بڑا لشکر جمع کر کے مدینہ پر حملہ کرنے کے لئے نکلے۔ابھی جنگ بدر سے واپس آئے چند دن ہی ہوئے تھے پھر بھی آپ فوراً صحابہ کرام کو ساتھ لے کمہ بٹا لمبا اور تکلیف دہ سفر کر کے نجد کے ایک مقام قرقرۃ الکدر پہنچے تو معلوم ہوا وہ ڈر کے مارے پہاڑوں میں چھپ کر بیٹھ گئے ہیں۔اس کو غزوہ قرقرة الکد رکہتے ہیں۔(شوال سره مطابق مارچ اپریل ۲۷) بچہ۔ابو سفیان کو یہ سمجھ نہ آئی کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے ساتھ ہے وہ ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ماں۔یہی تو اس کی بدقسمتی تھی اب دیکھو وہ پھر دو ستوسلح افراد لے کر مکہ سے نکلا۔اپنے شکر کو کچھ فاصلے پر چھوڑ کر بزدلوں کی طرح رات کی تاریکی ہیں مسلمانوں سے معاہدہ کرنے والے یہودی قبائل سے ملاقات کی۔ان سے شہر کے کچھ کمزور حصوں کے متعلق معلومات لیں اور وہاں سے گھس کر