ہجرت سے وصال تک — Page 20
ماں۔مسلمانوں کو اللہ پاک کے صحیح دین کو پہچانے کی خوشی تو ہر وقت رہتی تھی جب کوئی مشرک کلمہ شہادت پڑھ کہ مسلمان ہوتا عید کا سماں ہوتا۔مگر اللہ تعالی کی جماعتوں کے ساتھ مخالفت تو لگی رہتی ہے۔بچہ کوئی ایک مخالفت ! اپنے وطن تک سے تو نکلنا پڑا۔آپ کی جان لینے کی کوششیں کیں۔مسلمان بدلہ کیوں نہیں لیتے تھے۔جبکہ عربوں میں جنگوں کا بڑا رواج تھا۔ماں۔مسلمان ہر کام اللہ کے حکم سے کر تے تھے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں صبر اور تحمل کا حکم دیا تھا۔آپ نے ایک دفعہ ایسے ہی سوال کے جواب میں فرمایا۔مجھے ابھی تک عفو کا حکم ہے اس لئے میں تمہیں لڑنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔(نسائی کتاب الجہاد) مسلمان تعداد میں کم تھے۔ہتھیار ان کے پاس نہیں تھے۔دنیا کو اچھے سنتے پر لگانا ان کا کام تھا جو صلح اور امن سے ہو سکتا ہے۔مگر جب ظلم وستم حد سے بڑھ گئے تو اللہ تعالٰی نے تلوار سے جہاد کرنے کی اجازت عطا فرما دی۔یہ حکم ۱۲ صفر مطابق ۱۵- اگست ۳۳ کو نازل ہوا۔سورہ حج میں ایک آیت ہے جس کا ترجمہ ہے۔جن کے خلاف کفار نے تلوار اٹھائی انہیں لڑنے کی اجازت دی جاتی ہے کیونکہ وہ مظلوم ہیں اور ضرور اللہ تعالیٰ اُن کی نصرت پر قادر ہے۔سورہ حج کی اس آیت کے علاوہ بھی جہاد کی اجازت میں آیات نازل ہوئیں۔تو آپ نے مسلمانوں کو سمجھایا۔اے مسلمانو ! تمہیں چاہیے کہ دشمن کے مقابلہ کی خواہش نہ کیا