ہجرت سے وصال تک

by Other Authors

Page 21 of 142

ہجرت سے وصال تک — Page 21

۲۱ کرو اور خدا سے امن و عافیت کے خواہاں رہو اور اگر تمہاری خواہش کے بغیر حالات کی مجبوری سے کسی دشمن کے ساتھ تمہارا مقابلہ ہو جائے۔تو پھر ثابت قدمی دکھاؤ۔“ (بخاری ومسلم وابو داؤد ) بچہ۔اُس زمانے میں جنگ کا طریق کیا تھا۔ماں۔دونوں فوجیں آمنے سامنے کھڑی ہو جاتیں۔پہلے دونوں کا ایک ایک نمائندہ آگے بڑھتا اور تلوار سے لڑائی کرتا پھر عام حملہ کا جاتا۔لڑنے کے لئے تلوار، نیزہ اور تیر کمان استعمال ہوتے۔جنگ پیدل ہوتی اور گھوڑے پر سوار ہو کہ بھی لڑی جاتی۔ایک سادہ سی مشین کا بھی رواج تھا جسے منجنیق کہتے تھے اس میں پتھر رکھ کر دشمن پر برسائے جاتے آپ کے زمانے میں بھی یہ مشین استعمال ہوئی۔بچہ۔غریب مسلمانوں کے پاس جنگ کا سامان کہاں سے آتا تھا۔مان۔جب مقابلے کی نوبت آتی صحابہ خود اپنے لئے سامان خریدتے۔اگر کسی کے پاس زیادہ گنجائش ہوتی تو وہ سامان خرید کہ آپ کی خدمت میں پیش کر دیتے ہو آپ ضرورت مند کو عطا فرماتے مسلمان اپنا جھنڈا بھی بناتے تھے۔ایک جھنڈا سفید تھا جو کسی لکڑی وغیرہ پر لپٹا ہوتا اس کو بواء کہتے۔دوسرا جھنڈا کالا تھا جو ایک طرف سے لکڑی وغیرہ سے بندھا رہتا اور لہراتا رہتا اسے رایہ کہتے تھے۔بچہ۔اجازت ملنے کے بعد خوب جنگی تیاریاں شروع ہوگئی ہوں گی۔