ہجرت سے وصال تک

by Other Authors

Page 19 of 142

ہجرت سے وصال تک — Page 19

ایک رات کیا ہوا کہ کچھ شور ساسنائی دیا مسلمان اپنے اپنے گھروں سے نکل آئے کیا دیکھتے ہیں کہ پیارے آقا شور کی طرف سے گھوڑے پر سوار تشریف لارہے ہیں۔فرمایا میں دیکھ آیا ہوں۔فکر کی کوئی بات نہیں۔فکر کی کوئی بات نہیں۔“ بچہ۔پیارے آقا کتنے بہادر تھے۔ماں۔بہادر بھی تھے اور خود کو ذمہ دار بھی سمجھتے تھے یہ نہیں کہ کسی کو خطرے کی طرف روانہ کیا ہو بلکہ خود خطرے کے سامنے چلے گئے۔رات دن ہشیار رہنے سے مسلمان امن چین کی نیند کو ترسیں گئے تھے۔ایک رات تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " کاش کوئی نیک صحابی پہرہ دیتا تو میں ذرا سولیتا۔“ بچہ۔واقعی رات کو مہتھیار لگانے سے نیند کیسے آتی ہوگی۔ماں۔چلیں اب میں آپ کو ایک خوشی کی بات بتاؤں۔حضرت ابو بکر رفہ کی بیٹی اسماء اور زبیر بن العوام کے ہاں بیٹا پیدا ہوا یہ مہاجرین کا مدینہ میں پیدا ہونے والا پہلا بچہ تھا سب کو بے حد خوشی ہوئی۔بچے کو لے کہ آپ کے پاس آئے آپ نے ایک کھجور اپنے منہ میں ڈال کر نرم کی اور ننھے بچے کے منہ میں گڑھتی کے طور پر اس کا لعاب ڈالا بچے کا نام عبد اللہ رکھا۔بڑہے ہو کہ اس بابرکت بچے نے دین کے علم میں بہت ترقی کی۔بچہ۔شکر ہے مسلمانوں کو کوئی خوشی نصیب ہوئی۔