ہجرت سے وصال تک

by Other Authors

Page 132 of 142

ہجرت سے وصال تک — Page 132

١٣٢ میں تشریف لے آئے۔جب آپ حضرت عائشہ کے حجرے میں تشریف لائے تو کمزوری کی وجہ سے اپنی ٹانگوں پر پورا بوجھ نہ ڈال سکتے تھے دو صحابیہ کا سہارا لیا ہوا تھا۔(بخاری ومسلم، ابوداؤد) حضرت فاطمتہ اللہ ہرا کو اپنے پیارے ابا جان کی تکلیف سے بہت تکلیف تھی۔آپ بھی اُن کو چھوڑ کر جانے کا غم محسوس فرمارہے تھے۔اُس وقت باپ نے بیٹی سے ایسی باتیں کیں جن سے دونوں کو حوصلہ ہوا اور بیٹی آنے والے خدائی کے دنوں کے لئے ذہنی طور پر تیار ہو جائے حضرت فاطمہ رض فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے آہستہ سے ارشاد فرمایا " جبریل ہمیشہ ایک مرتبہ مجھ سے قرآن شریف کا دور کیا کر تے تھے لیکن اس سال دو مرتبہ کیا اور میں جانتا ہوں کہ یہ اس لئے ہوا ہے کہ میری وفات قریب ہی ہونے والی ہے۔(بخاری۔فضائل القرآن) ایک دفعہ آپ نے اپنی پیاری بیٹی حضرت فاطمتہ الزہرا کو بلایا اور آہستہ سے اُن کو کچھ کہا۔حضرت فاطمہ رونے لگ گئیں پھر دوبارہ اپنے قریب بلا کہ آہستہ سے کچھ فرمایا تو وہ ہنسنے لگیں۔بعد میں حضرت فاطمریض سے پوچھا گیا کہ ایسی کیا بات آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی کہ پہلے اپنے روئیں اور پھر آپ نہیں۔آپ نے بتایا کہ پہلی دفعہ یہ فرمایا تھا کہ میں اس بیماری سے وفات پا جاؤں گا تو میں رونے لگی پھر آپ نے فرمایا میرے بعد اہل بیت میں سے سب سے پہلے تم مجھ سے آملو گی اس بات سے میں خوش ہو گئی۔