ہجرت سے وصال تک — Page 133
١٣٣ حضرت فاطرئہ اپنے پیارے باپ کی تکلیف سے بہت دکھ محسوس کہ رہی تھیں۔ایک دفعہ جب آپ بخار کی تیزی سے بے ہوش ہو گئے تو خاطر کے منہ سے نکلا۔اُف میرے باپ کی تکلیف » آپ نے فرمایا تیرے باپ کو اس کے بعد تکلیف نہ ہوگی (بخاری شریف) سات آٹھ دن تک بیماری کی حالت میں ہی نماز کی امامت فرماتے رہے مگر جب کمزوری زیادہ ہو گئی تو اُٹھنا مشکل ہو گیا، ایک دن مغرب کے وقت آپ نے حضرت ابو بکرہ کو نماز پڑھانے کے لئے ارشاد فرمایا۔حضرت ابو بکر رض اور صحابیہ اس نماز میں بہت روئے عشاء کے وقت بھی آپ کی طبیعت بہت زیادہ خراب تھی۔صبح کی نماز کا وقت ہوا تو آپ سے اُٹھا نہ گیا مجرے کا پردہ اُٹھا کر دیکھا۔حضرت ابو بکر یہ امامت فرما رہے تھے آپ کو اطمینان ہوا کہ نمازی مسلمان چھوڑ کر جا رہے ہیں۔آپ نے سر پر کپڑا باندھا ہوا تھا اسی طرح باہر تشریف لائے۔حضرت ابو بکر رض کو محسوس ہوا جیسے آپ تشریف لائے ہیں تو پیچھے ہٹنے لگے۔آپ نے حضرت ابو بکررہ کی پشت پر ہاتھ رکھ کر وہیں رہنے کا ارشاد فرمایا خود حضرت ابو بکر کے پہلو میں بیٹھ گئے اور بیٹھ کر صبح کی نماز ادا فرمائی۔نماز کے بعد تھوڑی دیر مسلمانوں سے باتیں کیں اور حجرے میں تشریف لے گئے۔سب نے سمجھا کہ اب آپ بہتر ہو رہے ہیں اپنے اپنے کام سے نکل گئے حضرت عائشہ فرماتی ہیں جب رسول اللہ مسجد سے واپس تشریف لائے۔تو لیٹ گئے ، آپ کا سر حضرت عائشہ کے سینے پر تھا اور حضرت عائشہ نے آپ کو