ہجرت سے وصال تک — Page 102
١٠٢ ماں۔سب مسلمان خوش نہیں تھے اُس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ بظاہر ایسا لگتا تھا کہ مسلمانوں نے دب کر صلح کی ہے اور دوسرے کفار کی باتیں زیادہ مانی گئی تھیں۔خانہ کعبہ کے طواف کا مسلمانوں کو بڑا شوق تھا روک پڑ جانے سے بڑا صدمہ ہوا۔ایک اور واقعہ ایسا ہوا تھا کہ مسلمانوں میں افسردگی پھیل گئی ہوا یہ کہ ابھی معاہدہ لکھا ہی جا رہا تھا کہ سہیل بن عمرو کے بیٹے ابو جندل جو مسلمان ہو چکے تھے۔اور اسلام لانے کی وجہ سے سخت اذیتیں برداشت کر رہے تھے۔قید سے چھوٹ کہ بیٹریوں اور ہتھکڑیوں میں جکڑے ہوئے کسی طرح گرتے پڑتے وہاں پہنچے اور درد ناک آواز میں پکارا مسلما نو میری مدد کرو مجھے اسلام کی وجہ سے عذاب دیا جا رہا ہے مسلمان اُن کی حالت دیکھ کر تڑپ اُٹھے۔کل عالم کے لئے رحمت و شفقت آقا نے اُن کی تکلیف محسوس کی اور اُن کی مدد کرنی چاہی۔مگر سہیل نے ضد کی کہ معاہدہ کے مطابق ابو جندل کو آپ ساتھ نہیں لے جا سکتے۔آپ کچھ دیر خاموش رہے پھر ابو جندل سے فرمایا : اے ابو جندل صبر سے کام لو اور خدا کی طرف نظر رکھو۔خدا تمہارے لئے اور تمہارے ساتھ کے دوسرے کمر در مسلمانوں کے لئے ضرور خود کوئی رستہ کھول دے گا لیکن ہم اس وقت مجبور ہیں کیونکہ اہل مکہ کے ساتھ معاہدہ کی بات ہو چکی ہے اور ہم اس معاہدہ کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھا سکتے۔( ابن ہشام حالات صلح حدیبیه ) بچہ۔پھر ابو جندل کو واپس بھیج دیا گیا ؟ مسلمان اُن کی کوئی مدد نہ کر سکے ؟