ہجرت سے وصال تک — Page 101
ہوئے ہیں پھر اپنے ہاتھ سے رسول اللہ کے لفظ کاٹ دئے۔اور معاہدے میں محمد ابن عبداللہ لکھا گیا۔آپ نے نہ غصہ کیا نہ اپنی بات کو اوپر رکھنے کے لئے دوسرے کی بات ماننے سے انکار کیا بلکہ مخالف کی ایسی باتیں مان کر جن میں کوئی ہرج نہیں تھا سبق دیا کہ امن کے معاہدوں میں ایک دوسرے کا خیال رکھنا بہتر ہے۔بچہ۔معاہدہ کن شرائط پر ہوا۔ماں۔معاہدے کی شرائط کچھ یوں تھیں۔۱۔آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) اور آپ کے ساتھی اس سال واپس چلے جائیں۔-۲- آئندہ سال وہ مکہ میں اگہ رسم عمرہ ادا کر سکتے ہیں مگر سوائے نیام میں بند تلوار کے کوئی ہتھیار ساتھ نہ ہو اور مکہ میں تین دن سے زیادہ نہ ٹھہریں ۳۔اگر کوئی مرد یکہ والوں میں سے مدینہ جائے تو خواہ وہ مسلمان ہی ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُسے مدینہ میں پناہ نہ دیں اور واپس لوٹا دیں۔۔قبائل عرب میں سے جو قبیلہ چاہے مسلمانوں کا حلیف بن جائے اور جو چاہے اہل مکہ کا۔۵۔یہ معاہدہ فی الحال دس سال کے لئے ہوگا اور اس عرصہ میں قریش اور مسلمانوں کے درمیان جنگ بند رہے گی۔(849 (سیرت خاتم النبيين مثلا، (۶) اس کو صلح حدیبیہ کہتے ہیں یہ مارچ شاہ مطابق ذی قعدہ شاہ کو ہوا۔بچہ۔کیا صلح کی ان شرائط پر سب مسلمان خوش تھے۔